منتخب غزلیں

( غیر مطبوعہ ) نہ کوئی صبح سے مطلب' نہ مجھے …

( غیر مطبوعہ )

نہ کوئی صبح سے مطلب' نہ مجھے شام سے کام
میں وہ شاعر ہوں' جو رکھتا ہے فقط کام سے کام

جلد بازی کی ضرورت نہیں پڑتی ہرگز
اتنی فرصت ہے کہ کرتا ہوں میں آرام سے کام

خاک اُڑانے سے علاقہ ہے کُھلے میں مجھ کو
میری وَحشت کو نہیں گھر کے در و بام سے کام

نہ مِرے پاس ہنر تھا' نہ ادا تھی' نہ شعور
میں نے تا عمر چلایا ہے ترے نام سے کام

یہ مَحبّت کی کہانی ہے ہمیشہ کے لیے
اِس کے آغاز کو ہوتا نہیں انجام سے کام

اس کی شدّت میں کمی آنے نہ دوں گا کہ مجھے
پڑ بھی سکتا ہے کبھی گردشِ ایّام سے کام

اُس کی منطق کو سمَجھنا کوئی آسان نہیں
خاص لوگوں سے لیے اُس نے بہت عام سے کام

پہلے ہر شعر پہ کرتا تھا میں حجّت' آزر ؔ!
لیکن اب میں بھی چلا لیتا ہوں ابہام سے کام

( دلاور علی آزرؔ )

— with Dilawar Ali Aazar.

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/