منتخب غزلیں

( غیر مطبوعہ ) حرام ہو کہ جو دیکھا ہو اُس نگاہ کا…

( غیر مطبوعہ )

حرام ہو کہ جو دیکھا ہو اُس نگاہ کا مُنہہ
سو دیدنی نہ ہو کیسے دلِ تباہ کا منہہ

جنابِ غیب سے مِلتا نہ حُکم ِ خیر اگر
کبھی دیکھتا مَیں حضرتِ گناہ کا منہہ

جب اُس کے آنے کی امُید بھی نہ آئی ہو
تو اُٹھ کے دیکھے گی کس منہہ سے آنکھ راہ کا منہہ

ابھی فصیلِ سخُن پر چڑھی ہے خلقِ خدا
اتر گیا ہے ابھی سے جہاں پناہ کا منہہ

نہ چشم ِ شب میں ہے سُرمہ ' نہ گوشِ روز میں تار
بنا ہے خالق و مخلوق و مہر و ماہ کا منہہ

سُنے گا خاک وہ ایسی مَری ہوئی آواز
سَحَر گہی نے بھی دیکھا نہ میری آہ کا منہہ

اٹھے گا شہرِ وفا سے جو تیرا نا مُراد
تو دشت دیکھنے آئے گا رُو سِیاہ کا منہہ

مِرے بھی بھائی مجھے دشت لے کے جائیں گے
مِرے لیے بھی کہِیں پر کُھلا ہے چاہ کا منہہ

( جـــانؔ ِ عــالـم )

— with Jan e Alam.

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/