منتخب غزلیں

( غیر مطبوعہ ) اک ترنگ ایسی کہ پھولوں کی طرف کھنچ…

( غیر مطبوعہ )

اک ترنگ ایسی کہ پھولوں کی طرف کھنچتی ہے
ایکـــــ وَحشت کہ ببولوں کی طرف کھینچتی ہے

جســـــــم گـــــردابِ بلا میں ہے مگر موجِ خیال
اَوج کی رَو میں بگُــولوں کی طرف کھینچتی ہے

کون سی شےہے جو اِس عرصہِ انکار میں بھی
آدمیت کو رسُــــــــــولوں کی طرف کھینچتی ہے

تِلمـــــــــــلاتا ہے بہُت جبــــــــــــر اُن اہلِ دل پر
سچ کی دُھن جن کو اصولوں کی طرف کھینچتی ہے

کیا کُھلے رمـــزِ قیــام اُن کے دلوں پر کہ جنھیں
نارسی سُکر کے جھولوں کی طرف کھینچتی ہے

جب نہ دشــــمن ہو مقابل ' نہ کـوئی سوچ ہدفـــ
زندگــی ذہن کو بھـــولوں کی طرف کھینچتی ہے

وقت ہر روز اٹھــــــــــاتا ہے ســــــــوالات نئے
اور تری سوچ مقُــــولوں کی طرف کھینچتی ہے

شہــــــر میں جب بھی ذرا تیــــــز ہَوا چلتی ہے
اک کشِش گاؤں کی دُھولوں کی طرف کھینچتی ہے

کتنے بھی تلخ حقــــائق میں گِھرے ہوں' عالیؔ!
شـــاعری خـــواب ہیولوں کی طرف کھینچتی ہے

( جلیــل عـالـی ؔ )

— with Jalil Aali.

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/