منتخب غزلیں
اک ذرا تھم تھم کے یہ پردہ اُٹھاتے جایئے دیکھنے وا…
اک ذرا تھم تھم کے یہ پردہ اُٹھاتے جایئے
دیکھنے والوں کی نظریں آزماتے جائیے
عقل کہتی ہے ” دوبارہ آزمانا جہل ہے”
دل یہ کہتا ہے ” فریبِ دوست کھاتے جائیے”
کفر و ایماں کے سوا بھی کچھ مناظر اور ہیں
اُن کے ہر انداز پر ایمان لاتے جائیے
آ ہی جائے گا کوئی قسمت کا مارا قیس بھی
ہر طرف دامِ رُخِ لیلیٰ بچھاتے جائیے
میں نے کچھ فطرت ہی پائی ہے عجب مشکل پسند
میری ہر مشکل کو مشکل تر بناتے جائیے
یاد ہے ماہرؔ مجھے وہ اُن کا کہنا یاد ہے
” آج تو بس رات بھر غزلیں سناتے جائیے "
(ماہرؔالقادری)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

