چمک تیری عیاں بجلی میں ، آتش میں ، شرارے میں جھلک…

چمک تیری عیاں بجلی میں ، آتش میں ، شرارے میں
جھلک تیری ہویدا چاند میں ،سورج میں ، تارے میں
بلندی آسمانوں میں ، زمینوں میں تری پستی
روانی بحر میں ، افتادگی تیری کنارے میں
شریعت کیوں گریباں گیر ہو ذوق تکلم کی
چھپا جاتا ہوں اپنے دل کا مطلب استعارے میں
جو ہے بیدار انساں میں وہ گہری نیند سوتا ہے
شجر میں ، پھول میں ، حیواں میں ، پتھر میں ، ستارے میں
مجھے پھونکا ہے سوز قطرہء اشک محبت نے
غضب کی آگ تھی پانی کے چھوٹے سے شرارے میں
نہیں جنس ثواب آخرت کی آرزو مجھ کو
وہ سوداگر ہوں ، میں نے نفع دیکھا ہے خسارے میں
سکوں نا آشنا رہنا اسے سامان ہستی ہے
تڑپ کس دل کی یا رب چھپ کے آ بیٹھی ہے پارے میں
صدائے لن ترانی سن کے اے اقبال میں چپ ہوں
تقاضوں کی کہاں طاقت ہے مجھ فرقت کے مارے میں
علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ علیہ
کتاب : بانگِ درا
Your glimpse is in the moon, in the sun, in the stars
High in the skies, your depression in the earth
Flowing in the ocean, distress in your shore
Why the Sharia is so poor for the taste of tastes
I hide the meaning of my heart in the metaphor
The one who is awake in human sleeps deep sleep
In the tree, in the flower, in the beast, in the stone, in the stars
The inhuman drops of love have blown me away
There was a fire of anger in the small water.
I don't have the reward of gender in the Hereafter
I am a trader, I have seen profit in loss.
It is a good thing to be unaware of peace.
What heart is suffering, O God, it has come secretly in the magnum
O Iqbal, I am silent after listening to the voice of Tarani.
I don't have the power of the requirements in the end of my life.
Allama Muhammad Iqbal, may Allah have mercy on him
Book: Bang-e-Dra


