منتخب غزلیں

"تعبیر” مجھے یقیں تھا کہ تم نہیں ہو تھکے ہوے…

????????”تعبیر”????????

مجھے یقیں تھا کہ تم نہیں ہو

تھکے ہوے کھڑکیوں کے چہرے
جلی ہوئی آسماں کی رنگت

سیاہ، آفاق تک بگولے
لہو کے آتش فشاں کی ساعت

وُجود پر ایک بوجھ سا تھا
نہ صُبحِ وعدہ نہ شامِ فرقت

اسی مہیب آتشیں گھڑی میں
کسی کی دستک سُنی تو دِل نے

کہا کہ صحرا کی چوٹ کھائے
کوئی غریبُ الدّیار ہو گا

یہ سچ کہ دل کی ہر ایک دھڑکن
تمہارے درشن کے وَاسطے تھی

حیات کا ایک ایک لمحہ،
تمہاری آہٹ کا منتظر تھا

مگر ایک ایسے دیارِ غم میں
جہاں کی ہر چیز خشمگیں ہو
مجھے یقیں تھا کہ تم نہیں ہو

زمین سکتے میں ہے کہ کُیونکر
زمین پر ماہ تاب اُترا!

یہ آگ کیسے بنی شبستاں
کہاں سے آنکھوں کا خواب اُترا

روایتوں کی ہزار صدیوں
سے بڑھ کے یہ لمحہ حَسیں ہے

لہُو میں پُھولوں کے حاشیے ہیں
اُداس کاسے میں انگبیں ہے

یہ تم ہو، یہ ہونٹ ہیں،یہ آنکھیں
مُجھے یقیں ہے، مجھے یقیں ہے​

مصطفےٰ زیدی

از:-کُلّیاتِ مصطفےٰ زیدی ص ۵۰/۵۱/۵۲

انتخاب
سفیدپوش

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/