منتخب غزلیں
امیر مینائی ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے زمیں کھا …

امیر مینائی
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
تری بانکی چتون نے چن چن کے مارے
نکیلے سجیلے جواں کیسے کیسے
نہ گل ہیں نہ غنچے نو بوٹے نہ پتے
ہوئے باغ نذرِ خزاں کیسے کیسے
یہاں درد سے ہاتھ سینے پہ رکھا
وہاں ان کو گزرے گماں کیسے کیسے
ہزاروں برس کی ہے بڑھیا یہ دنیا
مگر تاکتی ہے جواں کیسے کیسے
ترے جاں نثاروں کے تیور وہی ہیں
گلے پر ہیں خنجر رواں کیسے کیسے
جوانی کا صدقہ ذرا آنکھ اٹھاؤ
تڑپتے ہیں دیکھو جواں کیسے کیسے
خزاں لوٹ ہی لے گئی باغ سارا
تڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے
امیرؔ اب سخن کی بڑی قدر ہو گی
پھلے پھولیں گے نکتہ داں کیسے کیسے
……
خواجہ حیدر علی آتش
دہَن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے
زمینِ چَمَن گل کھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
نہ گورِ سکندر، نہ ہے قبرِ دارا
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
تمھارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیں
گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے
بہار آئی ہے، نشّہ میں جھومتے ہیں
مُریدانِ پیرِ مُغاں کیسے کیسے
تپِ ہجر کی کاہشوں نے کیے ہیں
جُدا پوست سے استخواں کیسے کیسے
نہ مڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھا
تڑپتے رہے نیم جاں کیسے کیسے
دل و دیدہِ اہلِ عالم میں گھر ہے
تمہارے لئے ہیں مکاں کیسے کیسے
توجہ نے تیری ہمارے مسیحا
توانا کیے ناتواں کیسے کیسے
غم و غصہ و رنج و اندوہ و حرماں
ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے
تری کلکِ قدرت کے قربان آنکھیں
دکھائے ہیں خوش رو جواں کیسے کیسے
کرے جس قدر شکرِ نعمت، وہ کم ہے
مزے لوٹتی ہے، زباں کیسے کیسے
…..
واجد علی شاہ اختر
سہے غم پئے رفتگاں کیسے کیسے
مرے کھو گئے کارواں کیسے کیسے
وہ چتون وہ ابرو وہ قد یاد سب ہے
سناؤں میں گزرے بیاں کیسے کیسے
مرے داغ سوزاں کا مضموں نہ سوچو
جلے کہہ کے آتش زباں کیسے کیسے
رہا عشق سے نام مجنوں کا ورنہ
تہ خاک ہیں بے نشاں کیسے کیسے
شب وصل میں مہ کو عریاں کریں گے
عیاں ہوں گے راز نہاں کیسے کیسے
کمر یار کی ناتوانی میں ڈھونڈی
توہم ہوئے درمیاں کیسے کیسے
کلیجے میں اخترؔ پھپھولے پڑے ہیں
مرے اٹھ گئے قدرداں کیسے کیسے
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
تری بانکی چتون نے چن چن کے مارے
نکیلے سجیلے جواں کیسے کیسے
نہ گل ہیں نہ غنچے نو بوٹے نہ پتے
ہوئے باغ نذرِ خزاں کیسے کیسے
یہاں درد سے ہاتھ سینے پہ رکھا
وہاں ان کو گزرے گماں کیسے کیسے
ہزاروں برس کی ہے بڑھیا یہ دنیا
مگر تاکتی ہے جواں کیسے کیسے
ترے جاں نثاروں کے تیور وہی ہیں
گلے پر ہیں خنجر رواں کیسے کیسے
جوانی کا صدقہ ذرا آنکھ اٹھاؤ
تڑپتے ہیں دیکھو جواں کیسے کیسے
خزاں لوٹ ہی لے گئی باغ سارا
تڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے
امیرؔ اب سخن کی بڑی قدر ہو گی
پھلے پھولیں گے نکتہ داں کیسے کیسے
……
خواجہ حیدر علی آتش
دہَن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے
زمینِ چَمَن گل کھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
نہ گورِ سکندر، نہ ہے قبرِ دارا
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
تمھارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیں
گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے
بہار آئی ہے، نشّہ میں جھومتے ہیں
مُریدانِ پیرِ مُغاں کیسے کیسے
تپِ ہجر کی کاہشوں نے کیے ہیں
جُدا پوست سے استخواں کیسے کیسے
نہ مڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھا
تڑپتے رہے نیم جاں کیسے کیسے
دل و دیدہِ اہلِ عالم میں گھر ہے
تمہارے لئے ہیں مکاں کیسے کیسے
توجہ نے تیری ہمارے مسیحا
توانا کیے ناتواں کیسے کیسے
غم و غصہ و رنج و اندوہ و حرماں
ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے
تری کلکِ قدرت کے قربان آنکھیں
دکھائے ہیں خوش رو جواں کیسے کیسے
کرے جس قدر شکرِ نعمت، وہ کم ہے
مزے لوٹتی ہے، زباں کیسے کیسے
…..
واجد علی شاہ اختر
سہے غم پئے رفتگاں کیسے کیسے
مرے کھو گئے کارواں کیسے کیسے
وہ چتون وہ ابرو وہ قد یاد سب ہے
سناؤں میں گزرے بیاں کیسے کیسے
مرے داغ سوزاں کا مضموں نہ سوچو
جلے کہہ کے آتش زباں کیسے کیسے
رہا عشق سے نام مجنوں کا ورنہ
تہ خاک ہیں بے نشاں کیسے کیسے
شب وصل میں مہ کو عریاں کریں گے
عیاں ہوں گے راز نہاں کیسے کیسے
کمر یار کی ناتوانی میں ڈھونڈی
توہم ہوئے درمیاں کیسے کیسے
کلیجے میں اخترؔ پھپھولے پڑے ہیں
مرے اٹھ گئے قدرداں کیسے کیسے


