منتخب غزلیں

حسین تم نہیں رہے تمہارا گھر نہیں رہا مگر تمہارے ب…

حسین تم نہیں رہے تمہارا گھر نہیں رہا
مگر تمہارے بعد ظالموں کا ڈر نہیں رہا
مدینہ و نجف سے کربلا تک ایک سلسلہ
ادھر جو آ گیا وہ پھر اِدھر اُدھر نہیں رہا
صدائے استغاثہ حسُین کے جواب میں
جو حرف بھی رقم ہوا وہ بے اثر نہیں رہا
صفیں جمیں تو کربلا میں بات کھل کے آگئی
کوئی بھی حیلہ نفاق کارگر نہیں رہا
بس ایک نام—اُنؐ کا نام اور اُن ؐکی نسبتیں
جز اُن کے پھر کسی کا دھیان عمر بھر نہیں رہا
کوئی بھی ہو کسی طرف کا ہو کسی نسب کا ہو
جو تم سے منحرف ہوا وہ معتبر نہیں رہا
افتخار عارف

Image may contain: text

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/