منتخب غزلیں

مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے گدائ کو زم…

مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
گدائ کو زمانہ جِس کے دَر پہ آنے والا ہے

چکوروں سے کہو ماہِ دِل آرا ہے چمکنے کو
خبر ذرّوں کو دو مہرِ منوّر آنے والا ہے

فقیروں سے کہو حاضر ہوں جو مانگیں گے پائیں گے
کہ سُلطانِ جہاں محتاج پرور آنے والا ہے

کہو پروانوں سے شمعِ ہدایت اب چمکتی ہے
خبر دو بُلبُلوں کو وہ گُل تر آنے والا ہے

کہاں ہیں ٹُوٹی اُمّیدیں کہاں ہیں بےسہارا دِل
کہ وہ فریاد رس بیکس کا یاور آنے والا ہے

ٹھکانہ بے ٹھکانوں کا سہارا بے سہاروں کا
غریبوں کی مدد بیکس کا یاور آنے والا ہے

گنہگاروں نہ ہو مایوس تم اپنی رہائ سے
مدد کو وہ شفیعِ روزِ محشر آنے والا ہے

جُھکا لاۓ نہ کیوں تاروں کو شوقِ جلوہِ عارض
کہ وہ ماہِ دِل آرا اب زمیں پر آنے والا ہے

کہاں ہیں بادشاہانِ جہاں آئیں سلامی کو
کہ اب فرمانرواۓ ہفت کِشور آنے والا ہے

سلاطِیں زمانہ جِس کہ در پر بھیک مانگیں گے
فقیروں کو مبارک وہ تونگر آنے والا ہے

یہ ساماں ہو رہے تھے مدتوں سے جس کی آمد کے
وہی نوشاہِ باصد شوکت وفر آنے والا ہے

وہ آتا ہے کہ جس کا فدائ عالم ہے
وہ آتا ہے کہ دِل عالم کا جس پر آنے والا ہے

نہ کیوں ذرّوں کو ہو فرحت کہ چمکا اخترِ قسمت
سَحر ہوتے ہیں خورشیدِ منور آنے والا ہے

حسنؔ کہہ دیں اُٹھیں سب اُمّتی تعظیم کی خاطر
کہ اپنا پیشوا اپنا پیمبر آنے والا ہے۔۔۔!

مولانا حسنؔ رضا خان بریلویؒ

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/