منتخب نظمیں
گھبرائے تو ہیں تم کو پکارے تو نہیں ہیں ہم گردشِ …

گھبرائے تو ہیں تم کو پکارے تو نہیں ہیں
ہم گردشِ حالات سے ہارے تو نہیں ہیں
آنکھیں مری تم ساتھ کبھی لے کے گئے تھے
وہ قرض ابھی تم نے اتارے تو نہیں ہیں
یہ بات الگ جگنو چمک میں ہیں ذرا کم
لیکن کبھی تاروں سے یہ ہارے تو نہیں ہیں
تعبیر نظر رکھتی ہے یوں پلکوں پہ ہر دم
آنکھوں نے کہیں خواب سنوارے تو نہیں ہیں
امید کوئی آپ سے وابستہ نہیں ہے
معلوم ہے جی۔! آپ ہمارے تو نہیں ہیں
کٹتی ہیں رگیں دل کی، لہو ہوتا ہے احساس
بیچین مگر جذبوں کے دھارے تو نہیں ہیں
رہتا ہے دل و ذہن میں محفوظ جو میناؔ
تصویر نے وہ نقش ابھارے تو نہیں ہیں
ڈاکٹر مینا نقوی


