منتخب غزلیں
جنونِ شوقِ محبت کی آگہی دینا خودی بھی جس پہ …
جنونِ شوقِ محبت کی آگہی دینا
خودی بھی جس پہ ہو قرباں وہ بیخودی دینا
نہ شور چاہئے دریا کی تُند موجوں کا
مرے لہو کو سمندر کی چاندنی دینا
تو دے، نہ دے مرے لب کو شگفتگی گل کی
جو دے سکے تو شگوفے کی بے کلی دینا
شناخت جس سے زمانے میں آدمی کی ہے
یہ التجا ہے کہ تو مجھ کو وہ خودی دینا
جھکا سکے نہ مرا سر کوئی بھی قدموں پر
جو ہو سکے تو مجھے تو وہ سرکشی دینا
نقاب الٹ دے جو بڑھ کر رُخِ تمنا سے
یہ آرزو ہے کہ مجھ کو وہ تشنگی دینا
نئی جہات سے فن کو جو آشنا کر دے
مرے قلم کو خدایا وہ کج روی دینا
(علقمہ شبلی)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

