مختصر کہانیاں

100لفظوں کی کہانی (نمائش)

راشن بیگ بھی پہنچ چکے تھے۔
تمام "دعوتی اشرافیہ” بھی ٹھنڈے ٹینٹ کے اندر ،
نرم کرسیوں پر براجمان تھے۔
راشن لینے والے ضرورت مند بھی باہر”تپتی دھوپ” میں گھٹنوں کے بل انتظار میں تھے۔
حاجی صاحب کبھی اِدھر جاتے ، کبھی اُدھر،
غصہ اور پریشانی چہرے سے عیاں تھی۔
نرم کرسی سے اُٹھ کر مصنوعی گرمی کا تاثر دیتے ہوئے،
لاٹ صاحب نے دریافت کیا کہ ،
کس کا انتظار ہے۔
ؑمغلظات ارشاد فرماتے ہوئے بس اتنا کہا۔۔۔
کم بخت "فوٹو گرافر” ابھی تک نہیں آیا۔
[button color=”orange” size=”big” link=”http://” icon=”” target=”false”]سید شاہد عباس[/button]

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/