منتخب غزلیں
وفورِ شوق کی رنگیں حکایتیں مت پوچھ لبوں کا پیار ،…
وفورِ شوق کی رنگیں حکایتیں مت پوچھ
لبوں کا پیار ، نِگہہ کی شکایتیں مت پوچھ
کسی نگاہ کی نس نس میں تیرتے نشتر
وہ ابتدائے محبّت کی راحتیں مت پوچھ
وہ نیم شب، وہ جواں حُسن ، وہ وفورِ نیاز
نگاہ و دل نے جو کی ہیں عبادتیں مت پوچھ
ہجومِ غم میں بھی جینا سکھا دیا ہم کو
غمِ جہاں کی ہیں کیا کیا عنایتیں مت پوچھ
یہ صرف ایک قیامت ہے ، چین کی کروٹ
دبی ہیں دل میں ہزاروں قیامتیں مت پوچھ
بس ایک حرفِ شکایت زباں سے نکلا تھا
شہید ہو گئیں کتنی روایتیں مت پوچھ
نشانِ ہٹلری. و قیصری نہیں ملتا
جو عبرتوں نے لکھی ہیں عبارتیں مت پوچھ
نشاطِ زیست فقط اہلِ غم کی ہے میراث
ملیں گی اور ابھی کتنی دولتیں مت پوچھ
(علی سردار جعفری)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

