منتخب نظمیں
رات کے آنچل پہ موتی ٹانکتی ہی رہ گئی چاندنی سے چا…

رات کے آنچل پہ موتی ٹانکتی ہی رہ گئی
چاندنی سے چاند کو میں مانگتی ہی رہ گئی
قافلےیادوں کے کب کے جا چکےسب چھوڑ کر
خواب چنتی آنکھ ساماں باندھتی ہی رہ گئی
سر پٹختی پھر رہی تھی میں ،ہوا اور تیری یاد
صحرا صحراگھومتی اورہانکتی ہی رہ گئی
پھول کو صیاد نے توڑا چھپا کر رکھ دیا
زندگی پردے سے آکر جھانکتی ہی رہ گئی
ثمینہ گُل


