منتخب غزلیں

آنکھوں سے خوں چھلکتا رہا، دل دُکھا رہا اور اُس پ…

آنکھوں سے خوں چھلکتا رہا، دل دُکھا رہا
اور اُس پہ بھی کسی سے نہ مجھ کو گِلا رہا

یا عشق تھا اُداسی و تنہائی سے مجھے
یا وقت ایک موڑ پہ صدیوں رُکا رہا

کیا رات شہرِ درد میں آئی نہ تھی ہوا
کیوں چاند تِیرگی کے بھنور میں پھنسا رہا؟

سب ہم سفر شہید ہوئے راہِ شوق میں
پرچھائیوں کے وار سے اک میں بچا رہا

دل کے ورق پہ لکّھا تھا جو کچھ، سو مٹ گیا
لیکن جبیں پہ جو بھی لکھا تھا، لکھا رہا

(شہریار)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/