منتخب غزلیں

ترے قریب بھی دل کچھ بجھا سا رہتا ہے غمِ فراق کا…

ترے قریب بھی دل کچھ بجھا سا رہتا ہے
غمِ فراق کا کھٹکا لگا سا رہتا ہے

نہ جانے کب نگہِ باغباں بدل جائے
ہر آن پھولوں کو دھڑکا لگا سا رہتا ہے

ہزاروں چاند ستارے نکل کے ڈوب گئے
نگر میں دل کے سدا جھٹپٹا سا رہتا ہے

تمہارے دم سے ہیں تنہائیاں بھی بزمِ نشاط
تمہاری یادوں کا اک جمگھٹا سا رہتا ہے

وہ اک نگاہ، کہ مفہوم جس کے لاکھوں ہیں
اسی نگاہ کا اک آسرا سا رہتا ہے

تمہارے عشق نے ممتاز کر دیا دل کو
یہ سب سے مل کے بھی سب سے جدا سا رہتا ہے

(ممتاز میرزا)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/