منتخب غزلیں

شکیلؔ بدایونی عبرت آموزِ محبّت، یُوں ہُوا جاتا ہے…

شکیلؔ بدایونی

عبرت آموزِ محبّت، یُوں ہُوا جاتا ہے دِل
دیکھتی جاتی ہے دُنیا، ڈُوبتا جاتا ہے دِل

شاہدِ نظّارۂ عالَم ہُوا جاتا ہے دِل
آنکھ، جوکُچھ دیکھتی ہے، دیکھتا جاتا ہے دِل

حضرتِ ناصح! بَجا ترغیبِ خُود داری، مگر
اِس طَرِیقے سے کہِیں، قابُو میں آجاتا ہے دِل

حشر تک وہ اپنی دُنیا کو لئے بیٹھے رہے
لیجئے، اب اُن کی دُنیا سے ہٹا جاتا ہے دِل

اور کیا ہوتی بنائے عالَمِ دِیوانَگی
جب، فزوں ہوتا ہےغم، آنکھیں چُرا جاتا ہے دِل

آہ کرتا ہُوں، تو ہے اندیشۂ تشہِیرِ غم
ضبط کرتا ہُوں تو، بے قابو ہُوا جاتا ہے دِل

ہے ازل سے مرکزِ بربادئِ کامِل شکیلؔ
ہائے، جس شے کو محبّت میں کہا جاتا ہے دِل

شکیلؔ بدایونی


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/