منتخب نظمیں

آخری خط : شاہ زیب نوید

آخری خط

چلو اچھا ہُوا
تم نے تعلق کا یہ بقیہ لوتھڑا بھی مصلحت کے بھوکے گِدھ کو دان کر ڈالا
یہ گدھ بھی ایک مدت سے سمے کی شاخ پہ بیٹھا اسی کو گھورے جاتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں تک کوئی بدبودار چیزوں کی حفاظت میں
سکوں کی چند گھڑیاں بھی اذیت میں بسر کر دے
کوئی دیوار جاں کے سائے میں
ان مردہ رشتوں کی سڑی لاشیں کہاں تک ڈھانپ کے رکھے
کوئی کردار کے دامن سے لوگوں کی
زمانے کی
ملامت کی غلاظت کو بتاؤ کب تلک پُونچھے ــــــــــــــــــ ؟؟؟

بہت اچھا کیا تم نے
تمہیں تو اس سے پہلے بھی
تمہارے اپنے لوگوں نے کہیں یہ بے اماں رشتہ گنوا دینے کا بولا تھا
بھلا دینے کو بولا تھا
مگر
تم نے یہاں پر بھی وہی اک بخل پھر برتا
کہ تھوڑا سا لٹا ڈالا
بہت سارا بچا رکھا

جو رُخ پر آنکھ رکھتا ہے
وہ سب کچھ دیکھ لیتا ہے
زمانہ بھی تمہاری اس ادھوری سی نوازش کو بہت دن سے سمجھتا تھا
مگر خاموش بیٹھا تھا

لو دیکھو ! اب کے جو تم نے اچانک ہاتھ جھٹکا ہے
تو اِس کے مردہ چہرے پر بھی کیسی تازگی بکھری
چلو اچھا ہوا
تم نے کسی کے خال و خد پر تو کسی دیرینہ خواہش کی مکمل روشنی دیکھی

” محبت ” چیز ہی کیا ہے ؟
” وفا ” کس شے کو کہتے ہیں ؟
” نباہ ” کس نے کیا جاناں ؟
یہ سب باتیں دماغوں کا فقط کا اک نقص ہیں
جن کی مکمل پرورش ہم ناسمجھ لوگوں میں ہوتی ہے
سو جوں جوں عیب بڑھتا ہے
طبعیت بوجھ ہوتی ہے

میں حیراں ہوں
کہ ہم تم آج تک اپنی تھکی بیمار روحوں کی مشقت کو محبت کہ رہے تھے
مجھے دکھ ہے
کہ ہم تم آج تک سوچوں کے سرطاں کو
وفا کا نام بخشے زندگی کو سہہ رہے تھے ــــــــــــــــــــــــــــــ
فقط اک بات تھی جس کو نباہ دینے کی کوشش میں
رسوماتوں کے جرگہ سے
روایاتوں کے لشکر سے
رواجوں کی فصیلوں سے
عداوت پال رکھی تھی ـــــــــــــــــــــــــــ
کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ یہ کیسی حماقت تھی
مگر اب
مطمئن ہوں میں
کہ تم نے یاد کی چڑیاں
عمر کا کھیت چگنے سے بہت پہلےمری جاناں پکڑ کے نوچ ڈالی ہیں
بہت اچھا کیا تم نے
رواجوں کی عقوبت گاہ میں باندھی ہوئی لڑکی
یہاں پر کس میں جرات ہے
کہ اس زندان میں برپا کسی شور سلاسل سے
کسی طوقِ اذیت سے
الجھ جانے کی طے کر لے ــــــــــــــــــــ
اگر طے کر بھی لے جاناں
یہاں پھر کس میں ہمت ہے
کہ ایسے باغی بندے کے لہو ہاتھوں کا بوسہ لے
لہو ماتھے کو بوسہ دے
عدوئے دل کے لشکر میں گِھری ، تنہا بغاوت کو
رزم گاہِ زمانہ میں پھنسی نڈھال چاہت کو
وفاؤں کی دعا بھیجے
دعاؤں کی رسد بھیجے
رفاقت کی کمک دے کر
ذرا سی تازگی دے دے
ذرا سی زندگی دے دے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

یہاں ایسا نہیں ہوتا
یہاں ایسے ہی چلتا ہے
جہاں کمزور بازو ہوں
وہاں بس دل ہی جلتا ہے ــــــــــــــــــــــــ
چلو چھوڑو
ہُوا جو ــــــــــــــــــــ ہو چکا
اب کچھ بھی ہونے کا
نہ مجھ میں شوق باقی ہے
نہ تجھ میں حوصلہ ہو گا
میں بزدل تھا
بہادر تھا
اذیت کی مشقت سے
محبت میں مروت سے
کہاں پہ کیسی حسرت سے
تجھے میں نے گنوا ڈالا
تجھے یہ بھول جانا ہے ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

تمہاری قسمیں سچی تھیں
تمہارے وعدے جھوٹے تھے
عداوت سے
شرارت سے
کہاں پر کیسی حالت میں
مجھے تونے مٹا ڈالا
مجھے یہ بھول پانا ہے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بہت دن سے یہ خواہش ہے
دہر میں بےحسی کے جس قدر بھی زہر رکھے ہیں
وہ سب کے سب رگِ احساس کے سینے میں بھرنے ہیں
کہ یوں بھی تو سبھی ناطے ، کسی بے چہرہ رنجش کی حراست میں سسکتے ہیں
تو کیوں نا
کچھ عجب کھیلیں
کہ خود کو خود پہ دے ماریں
ہمی مقتول بن جائیں
ہمی قاتل بھی کہلائیں
اور اس پہ یہ کرامت کہ صفِ زندہ میں بھی آئیں
نگاہیں پھٹ کے رہ جائیں ـــــــــــــــــــــــــــ مگر منظر نہ دھندلائیں
رگیں بھی کٹ کے رہ جائیں ـــــــــــــــــــــ مگر نہ ہونٹ نیلائیں
گلو کانٹوں سے بھر جائے ــــــــــــــــــ مگر نہ گفتگو اُدھڑے
لہو سے تیغ بھر جائے ــــــــــــــــــــــــــــ بدن پہ زخم نہ آئے
نبٹ جائے محبت بھی
جہاں بھی پاس رہ جائے ــــــــــــــــــــــــ !!!

بہت دن سے یہی تم کو بتانا چاہتا تھا
کہ کسی بے فیض راحت سے ہزاروں درجہ بہتر ہے
وہ ایسی معتبر وحشت
کہ جو سینے کے دالاں میں ، پنپتے رائیگاں جذبوں کے ٹکڑے تک اُڑا ڈالے
وفا کو خاک کر ڈالے
توقع کو مٹا ڈالے
کہ میں نے بھی وہ سارے خواب ، سارے خط
حسیں یادیں ، حسیں وعدے
اسی وحشت کو دے چھوڑے
سو اس نے تو وہ سب چہرے،وہ سب قِصے
عجب اک آگ میں جاناں کچھ ایسے پھونک ڈالے ہیں
کہ اب جو خود بھی دیکھوں تو کوئی چہرہ نہ دِکھ پائے
کہ اب جو خود بھی جوڑوں تو کوئی نقشہ نہ جُڑ پائے
مری جاں !
بس تعلق کا وہ آدھا جسم باقی تھا
جو تم نے وقتِ رخصت میرے دروازے پہ چھوڑا تھا
اسے کچھ دکھ کے کوّوں نے
غمِ دنیا کی چیلوں نے
مری ناکام چاہت کی پھٹی گٹھڑی کی درزوں سے اچک کے نوچ کھایا ہے
وہاں دیوار پہ گھر کی لہو کے چند چھینٹے تھے
انہیں بھی ایک بارش نے بڑی کوشش سے دھو ڈالا

تمہاری فکر تھی مجھ کو ــــــــــــــــــ
جنوں کی اس مسافت میں نہ جانے تم پہ کیا گزری
کبھی تو میں نے یہ چاہا تجھے خود دیکھنے آؤں
تجھے خود آ کے سمجھاؤں
کہ یہ خود ساختہ رشتے
جہاں کے لمبے رستے پر فقط اک رائگانی کے سوا کچھ بھی نہیں دیتے
صرف تکلیف دیتے ہیں
جسے واپس نہیں لیتے
تمہیں سب کہنے آنا تھا
مگر اک شام رستے میں، تمہاری سمت کا باسی
ادھر آتا نظر آیا ـــــــــــــــــــــــــــ

شناسا تھا وہ میرا بھی
سو میں بے ساختہ اس سے ، تمھارا پوچھ بیٹھا تو
پھر اس نے بات یہ کھولی
کہ اب تو اس کے آنگن میں بڑی رونق سی رہتی ہے
صحن میں شام ڈھلتے ہی اجالے پھوٹ پڑتے ہیں
حنا کے تھال سجتے ہیں
کئی سکھیوں کے ٹولے ہیں جواس کو گھیرے رہتے ہیں
کوئی مہندی لگاتی ہے ، کوئی نغمے سناتی ہے
کبھی تو یوں بھی ہوتا ہے
وہ خود بھی ساتھ گاتی ہے ـــــــــــــــ

ہزاروں چاند تارے ہیں جو آنچل پر سجائے ہیں
کہ وہ جو اک پرانا سا اداسی کا لبادہ تھا
اسے اب پھینک چھوڑا ہے
نئے ملبوس ٹانکے ہیں
نئے گہنے بنائے ہیں
کہ اب تو اس کے چہرے پر عجب سرخی سی رہتی ہے
نگاہ سے رنگ چھنتے ہیں
بھنور ، گالوں میں پڑتے ہیں
لبوں سے آنچ آتی ہے
وہ اب تو ــــــــــــــــــــــــــ مسکراتی ہے
کہ اب سے کچھ ہی دن آگے ، سنا ہے اس کی شادی ہے ــــــــــــــــ !!!
میں سُن کے کانپ سا اُٹھا
یہ آنکھیں بھی امڈ آئیں
مگر میں لب پہ دنیا بھر کے سارے جھوٹ دھر کے ــــــــــــــــــــ ہنس دیا جاناں
کہا
اچھا کیا تم نے
درودیوارِ دنیا میں کسی مردہ محبت کا تعفن ہی نہیں پوجا
وفا کی ایک داسی نے، نئی چاہت کی خوشبو سے ،نیا معبد بسایا ہے
کوئی وعدہ نہیں سوچا
کوئی دعوی نہیں چھوڑا
یونہی آہستہ آہستہ پرانے بوجھ کو پھینکا
نیا رخت سفر جوڑا
کسی بھی خواب کا چہرہ
کسی بھی یاد کا آنچل
ذرا بچنے نہیں پایا
بلائے جان تھا جو کچھ وہ سب کا سب مٹا ڈالا
کہی بھی قتل یادوں کا ، مری طرح مروت سے یونہی کل پر نہیں ٹالا
بھلا ہو ! خیمہء جاں میں پرانے دکھ نہیں رکھے
بدن کے نرم ریشوں پر کوئی بھی روگ نہ پالا
اگر تم رکھ بھی لیتے تو
بُرا نہ تھا مگر پھر بھی
چلو اچھا ہو ا
تم نے تعلق کا یہ بقیہ لوتھڑا بھی مصلحت کے بھوکے گدھ کو دان کر ڈالا !!!

[button color=”orange” size=”medium” link=”http://” icon=”” target=”false”]شاہ زیب نوید[/button]

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/