منتخب غزلیں
( غیــر مطبــوعـہ ) یہ خواب زاد ، جو پہلو میں آئے…

( غیــر مطبــوعـہ )
یہ خواب زاد ، جو پہلو میں آئے بیٹھے ہیں
میں بولتا ہوں، تو یہ مجھ کو ٹوک دیتے ہیں
سلوک اِن کا ہے یوسف کے بھائیوں جیسا
یہ مجھ سے میری بقا کا جواز مانگتے ہیں
میں کیسے خواہشیں رکھّوں تمھارے تکیے تلے؟
کہ گھر میں چاروں طرف آئنوں کے پہرے ہیں
ملا ہوں آج میں بارہ برس کے بعد اُسے
خوشی ہوئی کہ وہی رنگ ڈھنگ اُس کے ہیں
نصابِ دل میں ہے شامل بس اک کتابِ وفا
اور اس میں سب سے زیادہ مِرے حوالے ہیں
حَسن ؔ ! میں کیسے کسی خواب کو کروں مہمان ؟
کہ رت جگے مِری آنکھیں ادھیڑ دیتے ہیں
( حَـسن ؔ عباس رضـا )


