منتخب غزلیں

( غیـر مطبـوعـہ ) حقیقت بھی یہــــــاں خود کو زم…

( غیـر مطبـوعـہ )

حقیقت بھی یہــــــاں خود کو زمانہ ساز کہتی ہے

مصوّر کی ہر اک تصــویر گہرے راز کہتی ہے

زمیں اب کے حقائق کا وہ پردہ چاک کر دے گی

یہاں خوابیدہ دستک بھی دریدہ ســــاز کہتی ہے

یقین و بے یقینی کی وہی صـــــــورت پرانی ہے

مَحبّت زائچے سارے بَُ صـــــد انداز کہتی ہے

ہر اک ترتیب سے بڑھ کر بیاں بازی کے شہرے ہیں

جہــــــالت لڑکھڑاتی چــــــال کو پرواز کہتی ہے

زمانے کے تو کانوں پرکبھی جوں تک نہیں رینگی

یہ چپ کی دھند چہروں کی بجھے اِغماض کہتی ہے

سیـــاست میں پیادے بھی زباں بندی پہ مائل ہیں

تکبّر کی نئی رت بھــــوک کو اعـزاز کہتی ہے

وہی صدمے مسلّم ہیں جو قاتل نے دیئے ہم کو

فــــــــــــراست ماتمی لے کو بلند آواز کہتی ہے

( سعــدیـہؔ بشـــیر )

— with Saadia Bashir.

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/