منتخب غزلیں

صرف اتنے جرم پر ہنگامہ ہوتا جائے ہے تیرا دی…

صرف اتنے جرم پر ہنگامہ ہوتا جائے ہے
تیرا دیوانہ تری گلیوں میں دیکھا جائے ہے

آپ کس کس کو بھلا سولی چڑھاتے جائیں گے
اب تو سارا شہر ہی منصور بنتا جائے ہے

دلبروں کے بھیس میں پھرتے ہیں چوروں کے گروہ
جاگتے رہیو کہ ان راتوں میں لوٹا جائے ہے

تیرا مے خانہ ہے یا خیرات خانہ ساقیا
اس طرح ملتا ہے بادہ جیسے بخشا جائے ہے

مے کشو! آگے بڑھو تشنہ لبو ! آگے بڑھو
اپنا حق مانگا نہیں جاتا ہے چھینا جائے ہے

موت آئی اور تصور آپ کا رخصت ہوا
جیسے منزل تک کوئی رہرو کو پہنچا جائے ہے

(کیف بھوپالی)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/