پاکستان کے معتبر و سنجیدہ شاعِر جناب افتخار عارف ص…
یُوں تو نہیں کہ دِل میں اب کوئی نئی دُعا نہیں
حرفِ دُعا تو ہے مگر ذِکر کا حوصَلہ نہیں
دیر بہت ہی دیر تک یاد کیا گیا اُنھیں
ویسے پلٹ کے دیکھنا میرا مزاج تھا نہیں
رات بس اِک چَراغ کی لَو سے رہا مکالَمَہ
صبح نہ جانے کَب ہوئی، کیسے ہوئی پتا نہیں
ایک ذرا سی بات ہے جس سے پڑے ہیں سارے پیچ
پیچ بھی وہ کہ درمیاں کوئی بھی دوسرا نہیں
کِیسی عجیب بات ہے زعمِ ہنر کے باوجود
رنگ بکھر گئے تمام نقش کوئی بنا نہیں
جس میں تمام دِل کی بات کُھل کے بیان کر سکوں
ایک سُخن ___وہی سُخن مجھ سے کبھی ہوا نہیں
چِہرہ بہ چِہرہ،لَب بہ لَب،خواب بہ خواب،دِل بہ دِل
عمر گزار دی گئی، کوئی کہیں مِلا نہیں
میری بیاضِ عشق میں مَطلَعِ اوّلِ غَزَل
درج تو کر لیا گیا ویسے کہیں پڑھا نہیں
دِل کے مُعامَلوں کے بِیچ عمر کہاں سے آگئی
جانِ جہانِ افتخار! وقت ابھی گیا نہیں
افتخار عارف
از:-کتابِ دِل و دُنیا ص ۳۷۹/۳۸۰
انتخاب
سفیدپوش

