نثری نظم ' میں سوچتی ہوں ' اگر محمد مص…

نثری نظم
' میں سوچتی ہوں '
اگر محمد مصطفےٰؐ ﷺ اچانک
آپ کے دروازے پر دستک دیں
اور دو ایک دن کے لۓ آپ کو میزبانی کا شرف بخشیں
تو — تو —- آپ لی کیفیت کیا ہوگی
میں یہ سوچتی ہوں
ایسے عظیم مہمان کے لۓ
گھر کا بہترین کمرہ
اور کھانے میں وہ سب کچھ جو آپ کے مقدور میں ہوگا
اور آپ کے لفظوں میں استقبال کے پھول مہکیں گے
'' سرکار کیسا کرم ہے
آپ نے عزت بڑہائی
مسرت کی ہماری کوئ انتہا نہیں ہے ''
————
مگر میں سوچتی ہوں
انہیں اپنے گھر کی جانب آتے دیکھ کر
آپ دروازے پر ان کا استقبال کریں گے
یا پہلے کپڑے بدلیں گے اور پھر گھر کے اندر بلائیں گے
( کہ لباس اسلامی تقاضوں کے مطابق ہوں )
یا کچھ رسالے چھپائیں گے
اور ان کی جگہ قرآن رکھ دیں گے
اور اپنے ٹی وی پر جلتی ہوئ بالغ مووی کو
کہاں لے جائیں گے
اور ریڈیو بند کریں گے ؟
اور اس تمنا کے ساتھ کہ انہوںؐ نے کچھ نہ سنا ہو
اور آپ کے منہہ سے نکلنے والے الفاظ —- رک جاءیں گے
اور موسیقی کا ساماں
کیا اس کی جگہ حدیث کی کتابیں نکل آئیں گی
کیا انہیںؐ آپ مشتاقانہ بیقراری کے ساتھ گھر کے اندر لے آئیں گی یا ؟
اور میں سوچتی ہوں
اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم دو ایک دن آپ کے ساتھ گزار دیں
تو کیا آپ کی مشغولتیں
وہی رہیں گی جو ہیں
اور کیا آپ کی باتیں اور گفتگو
وہی رہے گی جو ہے
اور کیا آپ کی زندگی اپنے راستے پر چلتی رہے گی
کیا آپ کی گھریلو گفتگو
اپنے معین راستوں پر سفر کرتی رہے گی ؟
اور کیا ہر کھانے کے وقت
دعاؤں کا دہرانا آپ کے لۓ آسان ہوگا
اور کیا ہر نماز
وقت پر ادا ہوگی — بلا الجھن
اور پھر فجر کے وقت
کیا آپ طلوعِ سحر سے پہلے اپنے بستر کو چھوڑ سکیں گے
اور کیا آپ وہی نغمے اپنے آپ کو سنائیں گے جو ہر دن سناتے ہیں
اور کیا آپ وہی کتابیں پڑہتے رہیں گے جو پڑہتے ہیں
اور کیا آپ اپنے عظیم رسولؐ کو بتائیں گے
کہ آپ کی روح اور ذہن کن خیالات کی آماجگاہ ہے
اور کیا آپ اپنے ہادی و رہنما کو ان مقامات پت لے جائیں گے
جہاں جانے کا منصوبہ بنا رکھا ہے
کیا پھر آپ اپنے ارادے بدل دیں گے
دو چار دنوں کے لۓ
کیا آپ اطمینان کے ساتھ سرورِ کونین کی ملاقات
اپنے جگری دوستوں سے کرائیں گے
کیا آپ سوچیں گے کہ کاش وہ آپ کے ہاں نہ آئیں
جب تک سرکارؐ کا قیام رہے
کیا آپ اس آرزو کا اظہار کر سکیں گے
کہ کاش سرکارؐ ہمیشہ ہمیشہ آپ کے ہاں مقیم رہیں ؟
کیا آپ اطمینان بھرا سانس لیں گے
جب شاہِ کونینؐ کے رخصت ہونے کی گھڑی آۓ گی
ذرا سوچیۓ
اگر سرکارؐ آجائیں
آپ کے ساتھ کچھ وقت گزارنے
ترجمہ آفتاب کریمی
نعت رنگ نمبر 4 اقلیم نعت مئ 1997ء
—
مجھے یقین ہی نہیں دعویٰ ہے کہ سسٹر کمیلیا بدر کی اس نظم سے آپ میں ایک لمحہ کے لے تو ضرور ' خود احتسابی ' کا جذبہ پیدا ہوگا ۔
کمیلیا بدر ایک نن تھیں جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا اور نظم 1980ء کے لگ بھگ لکھی گئ تھی ۔ کلیلیا بدر کے مزید حالات مجھے نہیں مل سکے ہیں ۔
اس نظم کا ترجمہ آفتاب کریمی نے کیا ہے ۔
بشکریہ وسیم سیّد
…



