منتخب غزلیں
پتہ رقیب کا دے جامِ جم تو کیا ہو گا وہ پِھ…

پتہ رقیب کا دے جامِ جم تو کیا ہو گا
وہ پِھر اُٹھائیں گے جُھوٹی قسم تو کیا ہوگا
وہ پِھر اُٹھائیں گے جُھوٹی قسم تو کیا ہوگا
ادا سمجھتا رہوں گا ترے تغافُل کو
طویل ہو گئی شامِ الم تو کیا ہوگا
جفا کی دُھوپ میں گُزری ہے زندگی ساری
وفا کے نام پہ جھیلیں گے غم تو کیا ہوگا
ابھی تو چرخِ ستم ہم پہ ڈھائے جاتا ہے
زمیں نہ ہو گی جو زیرِ قدم تو کیا ہوگا
میں ڈر رہا ہوں کہ زاہد کی خُشک باتوں سے
سراب بن گیا باغِ ارم تو کیا ہوگا
خُود اپنی موجِ نَفَس سے یہ زاہدانِ کام
بُجھا رہے ہیں چراغِ حرم تو کیا ہوگا
خواجہ ریاض الدین عطشؔ
المرسل: فیصل خورشید



واااااااہ وااااااہ واہ کیا کہنے بہت خوب
Khoob
Zabardast
Waaahhh waaaaaaah