منتخب نظمیں

مری دُعاؤں میں آقااثر عطا کردے صدفؔ ہوں میں، مجھے…

مری دُعاؤں میں آقااثر عطا کردے
صدفؔ ہوں میں، مجھے مرا گُہر عطا کردے

خمارِ طوق و سلاسل، کہیں ہے رقصِ جنوں
جو دیکھ پائے، مجھے وہ نظر عطا کردے

بڑے دکھوں میں گُزاری ہے زندگی کی شام
خوشی ہو جس کا ثمر، وہ سحر عطا کردے

گری پڑی ہوں میں ناکامیوں کی دلدل میں
سوبے کسی کو مری، بال و پر عطا کردے

میں لے کے کیا کروں عرشِ بریں کی جنت کو
کہ مجھ کو ایک تو اپنا ہی در عطا کردے

ہے جسم و جاں پہ ان دیکھا خوف سا طاری
سکوں کی جس میں ہو دولت وہ گھر عطا کردے

ترے ہی نام کا کرتی ہے ورد میری زُباں
مدینے آؤں میں، اذنِ سفر عطا کردے

بھٹکتے پھرتے ہیں ہم لوگ دشتِ خواہش میں
جو تیری سمت چلے، راہبر عطا کردے

فلک پہ انجم و مہتاب ذو فشاں ہیں ابھی
مری شبوں کو بھی مولا قمر عطا کردے

رہوں میں حرفِ اماں کے حصار میں آقاﷺ
صدفؔ ہوں، مجھ کو ثنا کا گُہر عطا کردے

ڈاکٹر صغری صدف


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/