موتی تو نہیں تھے کوئی پلکوں سے جو چُنتا ہم آنکھ سے…

ہم آنکھ سے ٹپکے ہوئے آنسو کی طرح تھے
…
صحافی اور شاعر خالد علیگ کی برسی
August 15, 2007
خالد علیگ 1925ء میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے علاقے قائم گنج میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے گریجویشن تک تعلیم حاصل کی اور تقسیم ہند کے بعد 1947ء میں اپنے اہل خانہ سمیت پاکستان آگئے لیکن یہاں بھی جیسے ہجرت ان کا نصیب بنی رہی۔ وہ پہلے صوبہ پنجاب کے شہروں اوکاڑہ اور لاہور اور اس کے بعد صوبہ سندھ کے شہروں میرپورخاص، خیرپور اور سکھر میں رہائش پذیر رہے اور پھر 1960ء میں کراچی آگئے اور یہاں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
ان کی شاعری کا ایک مجموعہ ’غزال دشت سگاں‘ کے عنوان سے شائع ہوا جو ان کے دوستوں اور شاگردوں نے شائع کروایا تھا۔
خالد علیگ طویل علالت کے بعد 83 سال کی عمر میں 15 اگست 2007ء بروز بدھ کی صبح سوا تین بجے کراچی میں انتقال کرگئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ عہدِ کم نگہی، اِس میں قدرِ جوہر کیا
غزالِ دشتِ سگاں ہوں، مرا مقدر کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موتی تو نہیں تھے کوئی پلکوں سے جو چُنتا
ہم آنکھ سے ٹپکے ہوئے آنسو کی طرح تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِک صفحہ پڑھ لیا تھا جنوں کی کتاب کا
اب تک خرد کو ہوش نہیں ہے جواب کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فقیر ِراہ گزر تھے کسی کو کیا دیتے
مگر یہی کہ وہ ملتا تو ہم دعا دیتے
گھروں میں آگ لگاکر بھی کیا ملا خالد
دلوں میں آگ لگی تھی اسے بجھادیتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل
میں ڈرا نہیں میں دبا نہیں میں جھکا نہیں میں بکا نہیں
مگر اہل بزم میں کوئی بھی تو ادا شناس وفا نہیں
مرے جسم و جاں پہ اسی کے سارے عذاب ثواب ہیں
وہی ایک حرف خود آگہی کہ ابھی جو میں نے کہا نہیں
نہ وہ حرف و لفظ کی داوری نہ وہ ذکر و فکر قلندری
جو مرے لہو سے لکھی تھی یہ وہ قرارداد وفا نہیں
ابھی حسن و عشق میں فاصلے عدم اعتماد کے ہیں وہی
انہیں اعتبار وفا نہیں مجھے اعتبار جفا نہیں
وہ جو ایک بات تھی گفتنی وہی ایک بات شنیدنی
جسے میں نے تم سے کہا نہیں جسے تم نے مجھ سے سنا نہیں
میں صلیب وقت پہ کب سے ہوں مجھے اب تو اس سے اتار لو
کہ سزا بھی کاٹ چکا ہوں میں مرا فیصلہ بھی ہوا نہیں
مرا شہر مجھ پہ گواہ ہے کہ ہرا ایک عہد سیاہ میں
وہ چراغ راہ وفا ہوں میں کہ جلا تو جل کے بجھا نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



Wah