منتخب غزلیں

باہَر باہَر پھیل گئی ‘ وہ دھوپ کڑی ‘ جو اندر تھی

باہَر باہَر پھیل گئی ‘ وہ دھوپ کڑی ‘ جو اندر تھی
رفتہ رفتہ سوکھ گئی ‘ وہ شاخ ہری ‘ جو اندر تھی

اب تو ہر اظہار سے جیسے’ جھانک رہے ہیں سارے دُکھ
کہاں گئی ؟ وہ بچّوں جیسی نرم ہنسی ؟ جو اندر تھی

اک رستے پر چلتے چلتے ‘ بھول گئی مَیں سب رستے
چاروں جانب جا نکلی ‘ وہ ایک گلی ‘ جو اندر تھی

پہلے اِِن آنکھوں میں اتری ‘ پھر لہجے ‘ پھر چہرے پر
پھر ملبوس تک آ پہنچی ‘ وہ بے رنگی ‘ جو اندر تھی

میں نے امکانات کی حد تک ‘ جا کر خود کو ڈھونڈا ہے
لفظوں میں ڈھلنے نہیں پائی ‘ حیرانی ‘ جو اندر تھی

اکثر اپنے جسم کی مّٹی ‘ گوندھی اپنےاشکوں سے
تب اِتنے رنگوں میں اُبھری ‘ معدومی ‘ جو اندر تھی

یوں تو لکھتی رہتی ہوں مَیں ‘ سب کچھ کورے کاغذ پر
لفظوں میں آ ہی نہیں پائی’ خوش فکری ‘ جو اندر تھی

[button color=”orange” size=”medium” link=”http://” icon=”” target=”false”]شاہدہؔ حَسَن[/button]

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/