منتخب غزلیں

یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کو انہیں ک…

یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کو
انہیں کیسے بتائیں ہم کہ وہ کیسے لگے ہم کو

مکیں تھے یا کسی کھوئی ہوئی جنت کی تصویریں
مکاں اس شہر کے بھولے ہوئے سپنے لگے ہم کو

ہم ان کو سوچ میں گم دیکھ کر واپس چلے آئے
وہ اپنے دھیان میں بیٹھے ہوئے اچھے لگے ہم کو

بہت شفاف تھے جب تک کہ مصروف تمنا تھے
مگر اس کار دنیا میں بڑے دھبے لگے ہم کو

جہاں تنہا ہوئے دل میں بھنور سے پڑنے لگتے ہیں
اگرچہ مدتیں گزریں کنارے سے لگے ہم کو

احمد مشاق


Related Articles

5 Comments

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/