منتخب غزلیں

کچھ ناطقؔ مالوی کے اشعار ….. کچھ لوگ خوش آواز ہو…

کچھ ناطقؔ مالوی کے اشعار
…..
کچھ لوگ خوش آواز ہوا کرتے ہیں
کچھ کہنے کے انداز ہوا کرتے ہیں

یہ وصف نہیں جن میں، وہ ناطقؔ کی طرح
اک نغمۂ بے ساز ہوا کرتے ہیں
….
در گزر مدِّ نظر ہے چرخِ بے بنیاد کی
ورنہ صرف اک آہ کافی تھی دلِ ناشاد کی
….
نہیں معلوم خوش فہمیاں کس روز جائیں گی
ابھی تک لوگ میخانوں کو میخانہ سمجھتے ہیں
………
مسکراتے ہوئے وہ جام بڑھانا اُن کا
کوئی انکار کا پہلو ہی نہ تھا، کیا کرتا
………
پا کے مزاجِ یار کچھ اپنی طرف جھکا ہوا
میں نے کہا زہے نصیب، دل نے کہا بُرا ہوا
………
آج کچھ اہلِ غرض جس کو وفا کہتے ہیں
آپ اس پستیِ کردار کو کیا کہتے ہیں
………
دل میں تو ہے چراغِ محبت کی روشنی
داغِ سیاہ لوحِ جبیں پر نہیں تو کیا
…..
حرم کے پاکیزہ ذوق لوگو، تمھاری باتوں کا کیا ٹھکانہ
شباب کو تم جنوں بتا دو، شراب کو تم حرام کر دو

نہ پوچھو میں ہلاکِ کاوش بیداد ہوں کس کا
بہت ممکن ہے لب پر آپ ہی کا نام آ جائے
………
چشمِ ما روشن ابھی باقی ہیں کچھ ویرانیاں
کون کہتا ہے ہمارا گھر بیاباں ہو گیا
………
چل پھر کے دن تو کاٹ دیا جس طرح بنا
رات آئی خیریت سے وہی ہائے ہائے پھر
………
دیکھ لیں احباب کی غم خواریاں
وقت پر سب منہ چھُپا کر رہ گئے
………
ساری دنیا جلوہ گر ہے جلوۂ صد رنگ ہے
میرے مالک میرے گھر میں روشنی کچھ بھی نہیں
….
اس آرزو میں کہ مجھ سے درسِ حیات لے کوئی آنے والا
اک آئینہ ہوں کہ راستے میں پڑا ہوا جھِلملا رہا ہوں
………
دل تو بیشک کچھ بہل جائے گا لیکن ہم نوا
کون شرمندہ ہو دو دن کی بہاروں کے لیے
….
غیر پھر غیر ہیں نظروں سے اُتر جائیں گے
تم سلامت رہو یہ دن بھی گزر جائیں گے
………
قفس میں چاہیں گے جس روز کھینچ لائیں گے
ابھی بہاروں پہ اتنا تو زور چلتا ہے
…..
دن کو اک شعلۂ آتشیں ہی ملا
رات نے گود بھر کے ستارے لیے
………
چشم فلک سے یا رب اپنی اماں میں رکھنا
پھولوں میں تُل رہی ہے کیا شاخِ آشیانہ
………
نشیمن میں کہاں کا شاخِ سُنبل پر بسیرا تھا
قفس کی تیلیوں میں رہ کے دل ناشادماں کیوں ہو
………
بادہ نوشی کر رہے ہیں بُت پرستی کر چکے
چار دن کی زندگی میں اور کیا کیا کیجیے
…..
طلب اس کی زہے طاعت، تلاش اس کی زہے ہمت
مگر کچھ بے غرض رہ کر، مگر کچھ بے خبر ہو کر
………
ناطقؔ کسی کے گھر میں بہار آئے یا خزاں
ہم کو تو اپنے ہی در و دیوار دیکھنا
………
مری رودادِ غم کس شوق سے سُنتی رہی دنیا
جہاں تک اُن کا ذکر آیا، جہاں تک اُن کا نام آیا
………
نہ کاملِ عشق، کوہکن تھا، نہ واقفِ رازِ عشق، مجنوں
یہ سنگریزے تو دھوپ پا کر دمک اٹھے ہیں چمک گئے ہیں
………
ہوا دیتے رہے ہو جس سے تم مہر و محبت کی
اسی دامن پہ کچھ خونِ شہیداں میں نے دیکھا ہے
………
میرا جنونِ عشق تو رسوائے خلق ہے
لیکن حضور خود بھی جہاں تھے وہاں نہیں
………
وہی ایک صورت، وہی ایک جلوہ
فراز یقیں سے فراز گماں تک


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/