منتخب غزلیں

ایک منظر منڈیروں پر رات رینگ رہی ہے اور کیاریوں…

ایک منظر

منڈیروں پر رات رینگ رہی ہے
اور کیاریوں میں
پانی کی مہک سوئی ہوئی ہے
سہمے دروازوں
اور خوابیدہ روشن دانوں کے سایے میں
چاندنی کا لحاف اوڑھے
کوئی گلی سے گذرتا ہے
نیند کے دالان میں
دودھ بھرے برتن کے
گرنے کی آواز آتی ہے
لمس اور تنفّس کے نم سے
ہَوا بوجھل ہے
کروٹیں .. سانس لیتی ہیں
اور کونے میں
ایک چارپائی پر
دو کھلی آنکھوں میں
موتیے کے پھول بھیگ رہے ہیں
اوس کے گرنے تک
یہ پھول .. اور بھیگ جائیں گے

( اَبــرارؔ احمــــد )

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/