منتخب غزلیں
جامِ مے توبہ شکن، توبہ مری جام شکن ۔ ریاض خیر آباد…

جامِ مے توبہ شکن، توبہ مری جام شکن ۔ ریاض خیر آبادی
کُل مرقعے ہیں ترے چاکِ گریبانوں کے
شکل معشوق کی، انداز ہیں دیوانوں کے
کعبہ و دیر میں ہوتی ہے پرستش کس کی
مے پرستو! یہ کوئی نام ہیں مے خانوں کے
جامِ مے توبہ شکن، توبہ مری جام شکن
سامنے ڈھیر ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے
پرِ پرواز بنے خود شررِ شمع کبھی
شررِ شمع بنے پر کبھی پروانوں کے
ذکر کیا اہلِ جنوں کا کہ جب آئی ہے بہار
وہ تو وہ، رنگ بدل دیتے ہیں زندانوں کے
وسعتِ ذات میں گم، وحدت و کثرت ہے ریاضؔ
جو بیاباں ہیں، وہ ذرّے ہیں بیابانوں کے





ریاض خیر آبادی بھی ان شعراء میں سے ہیں جن پر صرف اس لئے شرابی ہونے کا الزام ہے کہ ان کی شاعری میں وہ تمام لوازمات موجود ہیں جو ایک شرابی کے لئے ضروری ہوتے ہیں اور یہ الزام اس گروہ کی جانب سے لگائے گئے جو خود کو جدت اور ترقی کا علم بردار کہتے ۔۔۔۔مگر۔۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ۔۔۔۔۔
جگر کی طرح ریاض خیر آبادی کی شاعری بھی قاری کو معرفت کے راستے سے آشنا کرتی ہے
واہ واہ۔۔۔۔کیا عمدہ کلام ہے۔۔۔۔انتخاب کا جواب نہیں