منتخب غزلیں
خواب شاعری – حصّہ اوّل …… جاگنے پر بھی نہیں آن…

خواب شاعری – حصّہ اوّل
……
جاگنے پر بھی نہیں آنکھ سے گرتیں کرچیں
اس طرح خوابوں سے آنکھیں نہیں پھوڑا کرتے
(گلزار)
……
سنتا ہوں بڑے غور سے افسانۂ ہستی
کچھ خواب ہے کچھ اصل ہے کچھ طرز ادا ہے
اصغر گونڈوی
……
دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہے
انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں
سیماب اکبرآبادی
……
یہ جو راتوں کو مجھے خواب نہیں آتے عطاؔ
اس کا مطلب ہے مرا یار خفا ہے مجھ سے
احمد عطا
….
یا رب ہمیں تو خواب میں بھی مت دکھائیو
یہ محشر خیال کہ دنیا کہیں جسے
مرزا غالب
..
قصۂ مجنوں پسند خاطر جانانہ ہے
ورنہ خواب آور تو اپنے غم کا بھی افسانہ ہے
مصحفی غلام ہمدانی
…..
سونے سے جاگنے کا تعلق نہ تھا کوئی
سڑکوں پہ اپنے خواب لیے بھاگتے رہے
آشفتہ چنگیزی
…..
زندگی چھین لے بخشی ہوئی دولت اپنی
تو نے خوابوں کے سوا مجھ کو دیا بھی کیا ہے
اختر سعید خان
….
زیارت ہوگی کعبہ کی یہی تعبیر ہے اس کی
کئی شب سے ہمارے خواب میں بت خانہ آتا ہے
حیدر علی آتش
….
خیال وخواب کے منظر سجانا چاہتا ہے
یہ دل کا اِک تازہ بہانہ چاہتا ہے
(نوشی گیلانی)
….
زور سے بج نہ اُٹھے پیروں کی آواز کہیں
کانچ کے خواب ہیں بکھرے ہوئے تنہائی میں
(گلزار)
….
میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے
ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا
فراز
….
تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر
آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں
غالب
….
خواب میں دیکھو اسے اور شہر میں ڈھونڈو اسے
وقفے وقفے سے رونق میں بیٹھے دیکھنا
(منیر نیازی)
…..
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
(احمد فراز)
….
نہیں اب کوئی خواب ایسا تری صورت جو دکھلائے
بچھڑ کر تجھ سے کس منزل پر ہم تنہا چلے آئے
خلیلؔ الرحمن اعظمی
……
پیشکش: عمر جاوید خان
…….
#Lafz ; #خواب
……
جاگنے پر بھی نہیں آنکھ سے گرتیں کرچیں
اس طرح خوابوں سے آنکھیں نہیں پھوڑا کرتے
(گلزار)
……
سنتا ہوں بڑے غور سے افسانۂ ہستی
کچھ خواب ہے کچھ اصل ہے کچھ طرز ادا ہے
اصغر گونڈوی
……
دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہے
انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں
سیماب اکبرآبادی
……
یہ جو راتوں کو مجھے خواب نہیں آتے عطاؔ
اس کا مطلب ہے مرا یار خفا ہے مجھ سے
احمد عطا
….
یا رب ہمیں تو خواب میں بھی مت دکھائیو
یہ محشر خیال کہ دنیا کہیں جسے
مرزا غالب
..
قصۂ مجنوں پسند خاطر جانانہ ہے
ورنہ خواب آور تو اپنے غم کا بھی افسانہ ہے
مصحفی غلام ہمدانی
…..
سونے سے جاگنے کا تعلق نہ تھا کوئی
سڑکوں پہ اپنے خواب لیے بھاگتے رہے
آشفتہ چنگیزی
…..
زندگی چھین لے بخشی ہوئی دولت اپنی
تو نے خوابوں کے سوا مجھ کو دیا بھی کیا ہے
اختر سعید خان
….
زیارت ہوگی کعبہ کی یہی تعبیر ہے اس کی
کئی شب سے ہمارے خواب میں بت خانہ آتا ہے
حیدر علی آتش
….
خیال وخواب کے منظر سجانا چاہتا ہے
یہ دل کا اِک تازہ بہانہ چاہتا ہے
(نوشی گیلانی)
….
زور سے بج نہ اُٹھے پیروں کی آواز کہیں
کانچ کے خواب ہیں بکھرے ہوئے تنہائی میں
(گلزار)
….
میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے
ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا
فراز
….
تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر
آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں
غالب
….
خواب میں دیکھو اسے اور شہر میں ڈھونڈو اسے
وقفے وقفے سے رونق میں بیٹھے دیکھنا
(منیر نیازی)
…..
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
(احمد فراز)
….
نہیں اب کوئی خواب ایسا تری صورت جو دکھلائے
بچھڑ کر تجھ سے کس منزل پر ہم تنہا چلے آئے
خلیلؔ الرحمن اعظمی
……
پیشکش: عمر جاوید خان
…….
#Lafz ; #خواب




ایسے ایسے خواب دیئے تو نے میری آنکھوں کو
پلکوں نے فریاد اٹھائی آنکھیں چکنا چور ہوئیں
بہت خوب
ڈوبا ہوا میں خوں میں جہاں دیکھ رہا ہوں
اللہ کرے خواب کی تعبیر ہو الٹی
مقصود اعظم فاضلی
Nice