مشتاق احمد نُوری ٹھہر گیا مرے اشکوں کا قافلہ کب ک…

ٹھہر گیا مرے اشکوں کا قافلہ کب کا
میں ہو چکا ہوں ترے غم سے آشنا کب کا
اب اپنے چہرے پہ وہ تازگی نہ رونق ہے
اُتر چکا ہے ہر اک رنگِ خوش نما کب کا
بھٹکتا رہتا ہوں اب خواب کے جزیرے میں
گزر چکا ہے ان آنکھوں سے رت جگا کب کا
تمہاری یاد کی انگڑائیاں مچلتی ہیں
چلے بھی آٶ کہ ساون بھی آچکا کب کا
اب ان کا عکس اُبھرتا نہیں ہے آنکھوں میں
کہ چُور ہوگیا قربت کا آٸینہ کب کا
زمانہ ہوچکا آنکھوں میں خاک اُڑتے ہوٸے
روانہ ہوچکا اشکوں کا قافلہ کب کا
مری خموشی کسی طرح ٹوٹنے کی نہیں
لبوں میں جذب ہوا حرفِ مدّعا کب کا
تمام بکھرا ہوا ہے دبیز سنّاٹا
گزرچکا ہے صداٶں کا قافلہ کب کا
نہ جانے کب سے یہ بے برگ و بار ہے جاناں
ہمارا باغِ تمنّا اُجڑ گیا کب کا
بہت سکون ہے نوری زمیں کی پستی میں
بلندیوں کا نشہ تو اُتر چکا کب کا
……..
دُنیا نے کسوٹی پر ‘ تا عُمر کَسا پانی
بَنواس سے لَوٹا تو ‘ شعلوں پہ چلا پانی
ہر لفظ کا معنی سے ‘ رشتہ ہے بہت گہرا
ہم نے تو لِکھا بادل’ اور اُس نے پڑھا پانی !
جنّت تھی مگر ہم کو جُھک کر نہ اٹھانی تھی
شانے پہ رہا چہرہ ‘ چہرے پہ رہا پانی
تن بھی نہ بچا کورا ‘ مَیں بھی نہ بچا کورا
اِس بار کے ساون میں ‘ کیا جَم کے گِرا پانی
اِک موم کے قالِب میں ‘ دھاگے کا سفر دُنیا
اپنے ہی گلے لگ کر ‘ رونے کی سزا پانی
ہر ایک سکندر کا ‘ انجام یہی دیکھا
مٹّی میں مِلی مٹّی ‘ پانی میں مِلا پانی
( مشتاق احمد نُوری )


