مختصر کہانیاں

Man dare ishq Episode 33 part 1 "او مائی گاڈ یہ ٹی…

Man dare ishq
Episode 33 part 1
"او مائی گاڈ یہ ٹیچر ہے کہ کوئی سپر ماڈل !!!۔”
یہ آواز یقینن ربیکا کی تھی جس پر صبح چونک پڑی اس نے اسامہ سے نظریں ہٹا کر ربیکا کو دیکھا مگر نا صرف ربیکا کلاس کی تقریباً ساری لڑکیاں اسامہ کو دیکھ کر ہپنوٹایز ہوگئیں اس نے پھر اپنے آنکھیں مسل کر دیکھنا چاہا پھر رُک گئی نہیں آئی لائنر لگا ہوا ہے
"صحبی بڈی !۔”
اس نے حارث کی آواز پہ گردن موڑی
وہ اس کے سیٹ کے آگئے بیٹھا گردن موڑتے ہوے بولا
"یہ سب لڑکیاں پاگل ہوگئیں ہے اس انکل کو دیکھ کر نجانے لڑکیاں بڑے مردوں کو کیوں پسند کرتی ہیں ہماری کیا کیلے کی چھلکے جیسی شکل ہے جو ان کا منہ بن جاتا ہے ۔”
صبح ہنس پڑی اور اس نے زور سے دھپ اس کے کندھے پہ لگائی
"پہلے اپنی سوکھی سی باڈی میں ہوا ڈالو پھر دیکھنا کیسی لڈو ہوگی میرے بھائی پہ ۔”
اسامہ جو کچھ پیپرز نکال کر بات کا آغاز کرنے لگا صبح اور ایک لڑکے کو ہنستے دیکھ کر ٹہر گیا وہ اندر آیا تو صبح نے اسے دیکھا پھر اس کے بعد نظریں پھیر کر اس لڑکے سے باتوں میں مشغول ہوگئی اور اس کے کندھے پہ دھپ لگائی اتنی بے تکلفی کیا کرتا بیچارا غصہ جو اتنے سالوں سے کہی چھپ گیا تھا ایسے آیا کہ اس کے پورے جسم کو ہلا کر رکھ چکا تھا ساتھ میں پٹھان بھی تھا غیرت تو کوٹ کوٹ کر بھری تھی مٹھیاں بھینچتا وہ اب نظر پیپر پہ ڈال کر کلاس کی طرف متوجہ ہوا چہرے پہ جو نرمی کا عنصر غائب ہوگیا اور سختی غالب آگئی
"آپ سب کھڑے ہوکر اپنا انڑوڈیکشن دیں گے اور آپ نے یہ آرٹ کلاس کیوں جوائن کی اس کی وجہ بتائیں گے ۔”
"آرٹ کی الف تک نہیں آتی اس کو آرٹ کلاس کا ٹیچر بن گیا ۔”
اب وہ اسے کیا بتاتا اسی کی خاطر اس نے دو ہفتے تک آرٹ سے ریلیٹٹ ساری چیزیں گوگل سے ریسرج کی ، کلاسس لی بیچارا فیل بھی ہوا لیکن کچھ تو پتا چل گیا
اس کے بعد یوٹیوب میں لیسن لیے دُنیا کہ کچھ فیمس آرٹ گیلری جاکر دیکھی آرٹ کی بُکس رٹ کر آیا الف کے علاوہ اس کو تقریباً سب کچھ پتا چل گیا تھا
"کیا کہہ رہی ہو ۔”
وہ اُردو میں بڑبڑائی تھی تو ربیکا نے کہا
"سائیلنس پلیز مجھے کوئی باتیں کرتا ہوا نہ نظر !۔”
وہ اونچی آواز میں بولا
"ابھی تک چکی ہے اور یہ مجھے دیکھ کیوں نہیں رہا ویسے کیا یہ خواب ہے کیا یہ واقعی اسامہ ہے اسامہ دوہا کھبی آ نہیں سکتا کیونکہ اسے پتا ہی نہیں میں یہاں ہوں اگر وہ آتا تو مجھے دیکھتا ضرور ایسا کیسے ہوسکتا تھا وہ مجھے بھول گیا شاہد میں نے اپنے بال بلیک سے لائٹش بروان کردیں پر میرے بال تو اتنے ہی ہے
شاہد میں چہرہ چینج ہوگیا ہے پر نقش تو ویسے ابھی شاہد میک آپ کیا او کم آن صبح ایک آئی لائنر اور گلوس ہی لگی ہے لیکن میرے ناخن پینٹ ہوے ہیں اور ساتھ میں رنگز اور بریسلیٹ ۔۔۔۔۔۔۔
"مس ان بلیک ڈریس اگر آپ اپنی سوچ کی دُنیا سے نکل گئی ہیں تو کیا آپ اپنا تعارف کروانا پسند فرمائے گی ۔”
صبح ایک سپاٹ اور اونچی آواز جو یقینن چکی کی تھی ویسی اس کی آواز کتنی پاگل کردینے والی ہوگئی تھی
وہ چونک کر اُٹھی اور کو ٹیبل پہ جوس کا ڈبہ تھا وہ اس کے تیزی سے اُٹھنے پر گرا
"او ڈیم ! جوس کا ڈبہ اُٹھاو !!۔”
حارث کو کہتے ہوے وہ اپنے ہزبنڈ کو دیکھنے لگی جو اب کوٹ اُتار چکا تھا اور اپنے وائٹ شرٹ کی سلیوز مڑور کر اپنی کالی ٹائی کو ڈھیلی کرچکا تھا اور اب ایک کلپ بورڈ پکڑے نام لکھ رہا تھا
Breathtaking handsome
"کیا ؟۔”
سب متوجہ ہوے اسامہ نے سر نہیں اُٹھایا اسے معلوم تھا اس کی مہبوت کو توڑے گا اور جب اس کے تاثرات دیکھے گا تو کمزور پڑ جائے گا
"آپ میرا ٹائیم ویسٹ کررہی ہے ۔”
"میرے سال برباد کر کے اس کو اپنے ٹائیم ویسٹ کرنے کی پڑئ ہے ۔”
دانت کچا کر بولی
"میرا نام نور صبح ہے ۔”
"فل نیم پلیز !۔”
"نور صبح فرہاد شاہ ۔”
وہ ساری دُنیا کے سامنے نور صبح اسامہ بن جائے گی مگر اس چکی کے سامنے ہمیشہ نورِصبح فرہاد رہے گی ۔
اسامہ نے اپنی زبان کو زور سے دانتوں سے دبایا نور صبح فرہاد !!
"آرٹ کلاس جوائن کرنے کی وجہ ؟۔”
"آپ بھی بتائیں سر آرٹ کلاس جوائن کرنے کی وجہ ؟ ۔”
یہ چیز اس نے اُردو میں کہی تھی
"اکسکیوزمی !۔”
بھنویں جُڑی کھینچی گئی
"بزنس سٹوڈنٹ آرٹ کا ٹیچر !۔”
اس نے اسامہ کی سٹیل بلیو آنکھوں میں دیکھا جہاں سرد مہری کے علاوہ کچھ نہیں تھا
"آرٹ کلاس جوائن کرنے کی وجہ ؟۔”
اس نے پھر اس کی بات اگنور کر کے اپنا سوال دُہرایا
"شوق ! ۔”
"تو کیوں شوق ہے آپ کو مس !۔”
"شوق کی بھی کوئی وجہ ہوتی ہے سر !!۔”
"کیوں نہیں ہوتی آپ میں سے سوشل میڈیا کون یوز کرتا ہے یقینن سارے کرتے ہوگے اس کی وجہ کیا ہے ؟ ۔”
"فن ، انٹرٹیمنٹ ، دُنیا کو جاننا انٹچ رہنا ، اور ایسے بہت سے جواب سارے سٹوڈنٹ دینے لگے ۔”
"نیٹ سے ریلیٹٹ سوال پوچھا تو سب بولنے شروع ہوگئے مگر آرٹ کے بارے میں پوچھا تو بس شوق ! ساروں کے بس یہی جواب ایک دو کو چھوڑ کر خیر مس بلیک ڈریس !۔”
"اس ڈیش کو میرا نام تک بھول گیا یا بن رہا ہے ۔”
صبح کا دل کیا یہ اپنی جوتی اُٹھا کر مارے پھر یاد آیا جو بھی ہے اس کا شوہر تو ہے اپنی سوچ پہ جھڑجھڑی آئی
"جی سر بلیک سوٹ !۔”
وہ بھی کہا پیچھا چھوڑنے والی تھی نور صبح جو تھی جو نہ کھبی بدلی تھی اور نہ اس نے بدلنا تھا
"یہاں آکر آرٹ کو ڈفائن کریں ؟۔”
"میں !۔”
اس نے اپنے آپ کو اشارہ کیا
"نہیں آپ کے فرشتے ۔”
سارے ہنسنے شروع ہوگئے اور پھر صبح میڈم کو غصہ اس پر آج تک کوئی نہیں ہنسا تھا اور اب سب کی اتنی مجال اس چکی کی وجہ سے آئی تھی
وہ تیزی سے ربیکا کو پاس کرتی سڑھیوں سے نیچے اُتری اور ایک ادا سے چلتی اپنے فش ٹیل بریڈ کو سیدھی کرتی وہ اسامہ کے سامنے آئی
حارث بڑبڑایا
"یہ کہی وہ سموکر گائی نہ بنادیں وہ تو اسی چیز سے بس مشہور ہے اور تو اسے کچھ بنانا نہیں آتا !۔”
"ہاں صبح کی تھی ایک چیز ہئ اچھی ہے سموکر گائے اسے سموکرز پسند ہیں مجھے لگا مگر میری غلط فہمی دور ہوگئی جب شہزادے کا بھانجا قاسم جو صبح کے پیچھے پڑا تھا صبح کو امپرس کرنے کی خاطر پی رہا تھا اور ساتھ میں باقی بھی تو اس نے اتنی نفرت سے انھیں دیکھ کر منہ مڑا تھا میں بھی اس سے پوچھ بیٹھی
"تمھیں سموکرز نہیں پسند تھے یہ کیا سین ہے ۔”
"یہ انھیں سموکر کہتی ہوں بونگے لگتے ہیں چرسی نہ ہو تو سموکر تو صرف وہ تھا جو ایک دھوے سے مقابل کو ہلا کر رکھ دیتا تھا جس کی ایک ایک ادا دل کو بھاتی تھی آنکھوں میں شرافت چہرے پہ حددرجہ کی معصومیت جو صرف میرا ہے ۔”
وہ کھوئے ہوے لہجے میں بولی
"اور یہ ہے کون ہے جس کا تم ہمیشہ حوالہ دیتی ہو !۔”
"کوئی نہیں میرا امیجنیری گائی ہے ۔”
ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال جاتی اور اب اس کا سموکر گائی اس کے سامنے کھڑا تھا
"آرٹ کیا ہے ؟۔”
"فیلنگز !۔”
صبح نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے کہا جو دیکھ اب اس کی بڑی کالی آنکھوں کو رہی تھی سٹیل بلیو آنکھوں میں حیرت در آئی
"جو آپ کا دل آپ کی روح محسوس ہوتئ ہے آپ اس کو آرٹ کی صورت میں اظہار کردیتے ہو چاہیے وہ محبت ہو ، درد ہو ، تنہائی ہو یا پھر نفرت !۔”
اس نے لفظ نفرت بہت آہستگی سے کہا تھا مگر اسامہ نے سُنا تھا اور وہ اب اسے دیکھ رہا تھا چہرہ بالکل کھلا ہوا تھا مگر وہ صبح کو جانتا تھا کوئی جانے نہ جانے اسامہ کو صبح کو جانتا تھا درد کو مسکراہٹ میں چھپانے والی وہ اس کی نورِصبح ہی تھی خود کو کنڑول کرتے اس نے لہجے میں سنیجدگی لاکر بولا
"غلط ! بالکل غلط جواب میں تو حیران ہوں آپ آرٹ کلاس میں کیا کررہی ہیں جس کو آرٹ تک کو ڈفائن کرنا نہیں آتا کیا نام ہے آپ کو مس ؟۔”
کیا اس کا نام تک نہیں یاد وہ بھول گیا اسے ابھی تو اس نے بتایا بھی تھا مگر شاہد وہ اس کے نام تک کو سوچنا نہیں چاہتا تھا تو پھر وہ لیٹر کیا تھا ؟ وہ اظہار کیا تھا وہ اسامہ نے ہی بھیجا تھا یا کچھ اور ہی تھا وہ شاہد اس کے جذبات سے کھیلنا چاہتا تھا کہ آیا وہ اسے ابھی یاد کرتئ ہے کہ نہیں مگر اسے اسامہ بھولا ہی کب تھا اس نے اپنے آپ کو کنڑول کر کے کہا
"میرے خیال ہے آپ غلط کلاس میں آگئے ہیں سر کیونکہ میں نے آرٹ کو بہت اچھے طریقے سے ڈفائن کیا ہے ؟آپ کو اس لیے غلط لگا کیونکہ آپ کو خود نہیں پتا کہ آرٹ کا الف کیا ہے ؟۔”
ساری کلاس اس کی بولڈنس سے واقف تھے مگر ٹیچر کے ساتھ اس طرح بات کرنا انھیں ہضم نہیں ہوا
"یہ باز نہیں آئی گی ۔”
بولنے والا بھی اس کا دوست حارث تھا
"سر بھی تو دیکھو کس طرح بات کررہے ہیں اور یار مجھے یہ فارمل انداز نہیں لگ رہا ۔”
اسامہ کے چہرے پہ غصہ غالب آگیا
"آپ شاہد بھول رہی ہیں آپ کس سے بات کررہی ہیں ؟۔” وہ سنجیدگی سے کہنے لگا
"جی مجھے طرح معلوم ہے کہ میں کس سے بات کررہی ہوں شاہد آپ بھول گئے ہیں خان !۔”
اسامہ کی آنکھوں میں شاک آگیا اور ساتھ میں ساروں کے چہرے پہ بھی وہ سر کے بجائے خان بول رہی تھی
"اینی ہاو آپ اپنی سیٹ پہ تشریف لے۔”
وہ کہہ کر اب ڈیسک کی طرف متوجہ ہوا اور دوسرے سٹوڈنٹ سے سوال پوچھ کر جتنا کچھ دماغ میں رٹا ہوا تھا فر فر انگلش میں اپنے خوبصورت ایکسنٹ
سے پورے کلاس کو مسمرائز کر چکا تھا جبکہ صبح نے پورے وقت اسے نہیں دیکھا تھا
••••••••••••••••••
"کیسی ہو غزل ؟۔”
وہ آفس میں بیٹھا سکائپ میں غزل سے بات کررہا تھا جو موبائل تھامے اسامہ کو دیکھ کر مسکرائی تھی
"لالہ آپ تو غائب ہوگئے آپ نے کہا تھا آپ اس ویک تک آئے گے ہم سے ملنے ہم سب آپ کو بہت مس کررہے ہیں ۔”
اسامہ مسکرایا
"میں بھی کررہا ہوں مگر یار کیا کروں باقی سب کہا ہیں ۔”
"باقی سب تیاریوں میں لگی ہیں کل میتھس کا پیپیر ہے ان کا ۔”
"اور میڈیکل کالج کیسا کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی میں نے سُنا تم گھبڑا گئی تھی ۔”
"لالہ اتنا بڑا کالج تھا میں تو کنفیوزڈ ہوگئی ۔”
"کیوں ہوئی کنفیوزڈ میری بہن دوسرے کو کنفیڈنس کا لیکچر دیتے خود ہی گھبڑا گئی دس از رانگ !۔”
"نہیں بعد میں ٹھیک ہوگی تھی پتا ہے لالہ میری دوستی بھی ہوگئی کافی لڑکیوں سے وہ تو کافئ رچ ہے میں شروع میں ڈر رہی تھی کہ وہ میرا مزاق نہ اُڑانے لگ جائے مگر وہ تو بہت اچھی ہیں ۔”
وہ اس کی باتیں سُن رہا تھا
جب دروازے پہ دستک ہوئی
"آجاو ! غزل بچے میں زرا کام میں بزی ہوں رات میں بات کرتا ہوں تب تک اپنے سارے کام نپٹا لینا ۔”
دروازہ کھول کر پائلیٹ یونی فورم امیرالڈ آنکھوں والا شخص جس کی آنکھوں میں شرارت بھری ہوئی تھی
"ارے پائلیٹ صاحب جلدی آگئے خیریت !۔”
اسامہ حیرت زدہ مسکراہٹ سے اُٹھ کھڑا ہوا اور جاکر صلاح الدین کے بگل گیر ہوا
"کیا کریں ٹائیکون صاحب پرنس صاحب کا دو دن میں دل بھر آیا اس لیے آنا پڑا ۔”
وہ اسامہ کی پیٹھ پہ تھپکی دیتے ہوے بولا
"گھر نہیں گئے آپ !۔”
اس نے کُرسی کی طرف اشارہ کیا جہاں اسامہ بیٹھا ہوا تھا صلاح الدین بے تکلف ہوکر بیٹھ گیا جبکہ اسامہ دوسری طرف
"نہیں یار گھر اگر چلا جاتا تھا تو اپنی بیوی کو دیکھ کر ہوش ہی بھلا بیٹھتا !۔”
اسامہ مسکرایا پھر انٹرکام سے دو کافی منگوائی
"تو ملاقات ہوگئی ۔”
"ہاں ہوگئی !۔”
"کیسی رہی؟۔”
"آپ کے خیال میں کیسی ہونی چائیے تھی ۔”
"دونوں طرف سے سرد مہری ہوگی ۔”
وہ پیپر ویٹ گھامتے ہوے بولا
"جب پتا ہے تو پھر پوچھا کیوں ؟۔”
"کیا کرو اپنی تجسس سا تھا شاہد میری سوچ غلط ہوجاتی لیکن نہیں چکی اور ویمپ ایک دوسرے سے ہنس کر بات کریں !۔”
"پھول کی پکس سینڈ کیے ثمرن نے بہت خوش ہوئی تھی مجھ سے۔”
"ہے آپ کی بیوی میری پھول بھیجنے پر اتنا خوش !۔”
صلاح الدین ہنس پڑا
"تمھاری ویمپ نے سمجھا میں نے ثمرن کو بھیجا ہے میں جب بھی کہی جاتا ایسے ہی کرتا اور آڈر غلطی سے اس کے کمرے میں پہنچ گیا ہے مجھے کال کر کے
خود سے ہی سوال جواب کر کے مجھے بات کا موقع دیں بغیر بند !۔”
"کیا مطلب ہے اس نے بھابھی کے کمرے میں سارے پھول دیں دیں کہی وہ لیٹر بھابھی نے ۔”
تبھی وہ صبح کے ریکایشن کو سمجھ چکا تھا اس نے لیٹر نہیں پڑھا
"اگر ثمرن پڑھتی تو آج تیسری جنگ چھڑ چکی تھی ۔”
صلاح الدین نے اس کو ڈر کو بھگایا ۔
"پھر وہ لیٹر کہاں گیا ؟۔”
وہ خود سے بڑبڑایا
"ویسے تم کب سے رومینٹک ہوگئے ؟۔”
وہ اب کافی آنے پر اس اُٹھا کر بولا
جبکہ اسامہ کا منہ بن گیا
"پھول بھیجنے سے تھوڑی رومینٹک ہوجاتا ہے ۔”
اس نے صبح کو جواب دیا جو اس کی دوست کو کسی لڑکی کے دینے پر اس نے ڈپٹ کر کہا
"فیک فیلنگز ! پھول دینے سے بھی کوئی رومینٹک ہوتا ربیکا تم تو پاگل ایسے ہورہی ہو جیسے کہ اس نے تمھیں پروپوز کردیا ہے ۔”
"او صبح تم تو رہنے دوں تمھیں کیا معلوم جب تمھیں کوئی پھول بھیجے گا تب تم سے پوچھو گی ۔”
"مجھے کوئی بھیج کے تو دکھائیں اس کو اس کی ساری نانیاں یاد دلواؤں گی ۔”
وہ کنٹین میں تھی اور یہ ساری گفتگو اسامہ نے اپنے آفس میں سُنی تھئ کمیرہ صبح کے چہرے پہ مرکوز تھا اور آوازیں ٹیبل کے نیچے لگے مائیکرو فون سے آرہی تھی اس نے ساری ٹیبل میں لگایا تھا کہ شاہد کسی میں وہ بیٹھے اور جب اس نے سُنا تو اس کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی
"ویسے ایک بات ہے مسڑ چکی ایک پھول سے بھی محبت کا اظہار ہوسکتا تھا اور تمھارے سے تو ایک پھول کی اُمید تھی یہ سارے پھولوں کا کیا چکر تھا ؟۔”
"مجھے اس کا فیورٹ پھول نہیں پتا تھا غلط پھول بھیجنے پر اس نے ناراض ہوجانا تھا کہ اور میرے جرم میں مزید اضافہ کردینا تھا اس لیے پاگلوں کئ طرح سوچ کے میں نے یہ ڈیسائڈ کیا کہ سارے پھول بھیج دیتا ہوں شاہد اس میں سے کوئی پسند کا نکلے ۔”
دین اس کے سادگی سے بھرپور جواب پر قہقہہ لگائے بغیر نہ رہ سکا
"اُف سادہ رومیو !۔”
"میں رومیو نہیں ہوں بھائی !۔”
اسامہ کو اس کا حوالہ پسند نہیں آیا
"خیر اچھا ہے میرے جیسا نہ بنا تھلے لگے رہو گے ۔”
اس کی شرارت سے بھرپور لہجے میں اسامہ کی بھی ہنسی چھوٹ گئی
"مورے سے بات ہوئی عمرہ ہوگیا !۔”
"ہاں الحمدللّٰہ ! ابھی مدینہ کے لیے روانہ ہونے لگے ہیں وہ سب ۔”
"چلو اچھا ہوگیا میں بھی سوچ رہا ہوں تم دونوں ٹام اینڈ جیرئ کو اپنے سفو حوالے کر کے ثمرن کو حج کے لیے لے جاوں پر پھر یاد آتا ہے ٹام اینڈ جیرئ کو حوالے کرنے سے بہتر ہے سفائر کو اپنے ساتھ لے جاوں ۔”
"بھائی وہ میری بھی کچھ لگتی ہے ایک دفعہ بس اس کو دیکھا تھا اور اسے اُٹھانے کی حسرت رہ گئی ہے کیسا چاچو ہوں میں ۔”
"زیادہ بنو مت گھر میں کو گھستے ہوں نہ چوروں کی طرح اس میں دس دفعہ میری بیٹی کو پیار کر کے پاگل ہوے ہو ۔”
"پیاری بھی تو بہت ہے ۔”
"اب تم نے سفائر کا ذکر کردیا ہے اور مجھ سے رہا نہیں جارہا میں تو چلا !۔”
"بیٹھتے تو !۔”
"ارے نہیں یار اور تم اب کوشش میں لگو تاکہ میرے گھر میں داخل ہوا سکو اور ارباز کی کنویکیشن کے لیے چلنا ہے نا میرے ساتھ ۔”
"ہاں ! آپ بھی جائے گے ۔”
صلاح الدین مسکرایا
"تمھارے سے پہلے وہ میرا بھائی تو میں تو جارہا ہوں ۔”
اسامہ نے سر ہلایا
"ٹھیک ہے میں آپ کی بھی سیٹ بُک کردیتا ہوں ۔”
••••••••••••

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/