منتخب غزلیں
مقیم اثر بیاولی دل کے جھکنے کی خبر ہو پھر نہ سر کٹ…

مقیم اثر بیاولی
دل کے جھکنے کی خبر ہو پھر نہ سر کٹنے کا ہوش
ایک سجدہ ہو اگر ایسا جسے سجدہ کہوں
جس میں تیرا غم نہیں وہ دل نہیں کچھ اور ہے
کیسے خالی قبر کو راحت گہہ تقویٰ کہوں
…..
یہ زر پرست حکومت ہماری قاتل ہے
فضول ہے کوئی امیدِ زندگی اِس سے
پڑا جو وقت وطن کو بھی بیچ کھائے گی
ملے گی بھیک میں کس طرح روشنی اِس سے
…..
سورج ، چاند ، ستارے ، جگنو ، آنسو ، دیپ
تجھ بِن سب کے گھر میں اندھیرا لگتا ہے
…..
تشنگی ساحلِ تشنہ کی بجھادے تو کہوں
اپنے کوزے میں اگر رکھتا ہے پانی ، دریا
…..
اک نئی گمنامی پھر ڈھونڈے گی تمھیں
آج اگر شہرت کے افق تک پہنچے ہو
….
چند لفظوں کے علاوہ اور کیا دادِ ہنر
کب اثر فن کار کو اس کا صلہ دیتے ہیں لوگ
…..
سب کے کاغذ پہ نہ کیوں نور کی تحریر لکھوں
دشتِ بے سمت میں اندازۂ شب ہے مجھ کو
….
اثر وجودِ بشر ظلمتوں سے خائف ہے
خدادراز کرے سلسلہ چراغوں کا
….
مشرق و مغرب کے پیمانوں میں ہے جھوٹی شراب
جس کو پی کر سب بنے پھرتے ہیں حق کے پاسباں
دل کے جھکنے کی خبر ہو پھر نہ سر کٹنے کا ہوش
ایک سجدہ ہو اگر ایسا جسے سجدہ کہوں
جس میں تیرا غم نہیں وہ دل نہیں کچھ اور ہے
کیسے خالی قبر کو راحت گہہ تقویٰ کہوں
…..
یہ زر پرست حکومت ہماری قاتل ہے
فضول ہے کوئی امیدِ زندگی اِس سے
پڑا جو وقت وطن کو بھی بیچ کھائے گی
ملے گی بھیک میں کس طرح روشنی اِس سے
…..
سورج ، چاند ، ستارے ، جگنو ، آنسو ، دیپ
تجھ بِن سب کے گھر میں اندھیرا لگتا ہے
…..
تشنگی ساحلِ تشنہ کی بجھادے تو کہوں
اپنے کوزے میں اگر رکھتا ہے پانی ، دریا
…..
اک نئی گمنامی پھر ڈھونڈے گی تمھیں
آج اگر شہرت کے افق تک پہنچے ہو
….
چند لفظوں کے علاوہ اور کیا دادِ ہنر
کب اثر فن کار کو اس کا صلہ دیتے ہیں لوگ
…..
سب کے کاغذ پہ نہ کیوں نور کی تحریر لکھوں
دشتِ بے سمت میں اندازۂ شب ہے مجھ کو
….
اثر وجودِ بشر ظلمتوں سے خائف ہے
خدادراز کرے سلسلہ چراغوں کا
….
مشرق و مغرب کے پیمانوں میں ہے جھوٹی شراب
جس کو پی کر سب بنے پھرتے ہیں حق کے پاسباں


