ہم قافیہ و ردیف ڈاکٹر عرشؔ صدیقی ڈاکٹر بشیر بدرؔ ۔…

ڈاکٹر عرشؔ صدیقی
ڈاکٹر بشیر بدرؔ
۔۔۔۔۔
عرشؔ صدیقی
غم کی گرمی سے دِل پِگھلتے رہے
تجرِبے آنسُوؤں میں ڈھلتے رہے
ایک لمحے کو تُم مِلے تھے مگر
عُمر بھر دِل کو ہم مَسلتے رہے
صِبح کے ڈر سے آنکھ لگ نہ سکی
رات بھر کروٹیں بدلتے رہے
زہر تھا زِندَگی کے کُوزے میں
جانتے تھے مگر نِگلتے رہے
دِل رہا سر خوشی سے بیگانہ
گرچہ ارماں بہت نِکلتے رہے
اپنا عَزمِ سفر نہ تھا اپنا
حُکم مِلتا رہا تو چلتے رہے
زِندَگی سر خوشی جُنُوں وَحشَت
موت کے نام کیوں بدلتے رہے
ہو گئے جِن پہ کارواں پامال
سب اُنہی راستوں پہ چلتے رہے
دِل ہی گر باعثِ ہلاکت تھا
رُخ ہَواؤں کے کیوں بدلتے رہے
ہو گئے خامشی سے ہم رُخصَت
سارے اَحباب ہاتھ مَلتے رہے
ہر خوشی عرشؔ وجۂ درد بنی
فرشِ شبنم پہ پاؤں جلتے رہے۔۔۔!
۔۔۔۔۔
بشیر بدرؔ
مُسافِر کے رَستے بدلتے رہے
مُقَدَّر میں چلنا تھا چلتے رہے
سُنا ہے اُنھیں بھی ہَوا لگ گئی
ہَواؤں کے رُخ جو بدلتے رہے
محبّت عداوَت وفا بے رُخی
کراۓ کے گھر تھے بدلتے رہے
وہ کیا تھا جِسے ہم نے ٹُھکرا دِیا
مگر عُمَر بھر ہاتھ مَلتے رہے
کوئ پُھول سا ہاتھ کاندھے پہ تھا
میرے پاؤں شُعلوں میں جلتے رہے۔۔۔!



واہ بہت خوب
bht ala
Very nice & interesting