منتخب غزلیں
رؤف خلش … ان رتوں میں گھل جائیں ، تتلی بن کے اڑ…

رؤف خلش
…
ان رتوں میں گھل جائیں ، تتلی بن کے اڑ جائیں
ہے دھلا دھلا منظر ، ہے کھلی کھلی کھڑکی
….
جذب کر کے رکھ لینا ، دستکیں ہتھیلی میں !
جب سے میں سفر میں ہوں ، ہم سفر ہیں دروازے
…
نہ آئے شہر میں سورج کے ، منہ چھپائے چاند
ہمیشہ مملکتِ شب میں سر اٹھائے چاند
…
وہاں سنا تھا سمندر کی پیاس بجھتی ہے
جو لوٹ آیا تو ہوں پیاس کا سمندر مَیں
…
چْھپنے کو شہرِ ذات بچا تھا مرے لئے
اْس شہر میں بھی چاروں طرف آئینے لگے
…
ان رتوں میں گھل جائیں ، تتلی بن کے اڑ جائیں
ہے دھلا دھلا منظر ، ہے کھلی کھلی کھڑکی
….
جذب کر کے رکھ لینا ، دستکیں ہتھیلی میں !
جب سے میں سفر میں ہوں ، ہم سفر ہیں دروازے
…
نہ آئے شہر میں سورج کے ، منہ چھپائے چاند
ہمیشہ مملکتِ شب میں سر اٹھائے چاند
…
وہاں سنا تھا سمندر کی پیاس بجھتی ہے
جو لوٹ آیا تو ہوں پیاس کا سمندر مَیں
…
چْھپنے کو شہرِ ذات بچا تھا مرے لئے
اْس شہر میں بھی چاروں طرف آئینے لگے



$❤
❣????❣