منتخب غزلیں
دَر و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئ پِھر یہ بارِش مِر…
دَر و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئ
پِھر یہ بارِش مِری تنہائ چُرانے آئ
پِھر یہ بارِش مِری تنہائ چُرانے آئ
زِندگی باپ کی طرح سزا دیتی ہے
رحم دِل ماں کی طرح موت بچانے آئ
آج کل پِھر دِلِ برباد کی باتیں ہیں وہی
ہم تو سمجھے تھے کہ کُچھ عقل ٹِھکانے آئ
دِل میں آہٹ سی ہُوئ رُوح میں دستک گُونجی
کِس کی خوشبُو یہ مُجھے میرے سرہانے آئ
مَیں نے جب پہلے پہل اپنا وطن چھوڑا تھا
دُور تک مُجھ کو اِک آواز بُلانے آئ
تیری مانَند تیری یاد بھی ظالم نِکلی
جب آئ میرا دِل ہی دُکھانے آئ۔۔۔!
کلام کیفؔ بھوپالی
آواز ہری ہرن


کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا
میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا
دل ناداں نہ دھڑک اے دل ناداں نہ دھڑک
کوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگا
دل کی قسمت ہی میں لکھا تھا اندھیرا شاید
ورنہ مسجد کا دیا کس نے بجھایا ہوگا
گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھو
آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا
کھیلنے کے لیے بچے نکل آئے ہوں گے
چاند اب اس کی گلی میں اتر آیا ہوگا
کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں
اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا
Waaaah…