جعفر طاہر کا یوم پیدائش March 29, 1917 29 مارچ 19…

March 29, 1917
29 مارچ 1917ء اردو کے ممتاز شاعر جعفر طاہر کی تاریخ پیدائش ہے۔ جعفر طاہر کا اصل نام سید جعفر علی شاہ تھا اور وہ جھنگ میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم جھنگ میں حاصل کرنے کے بعد بری فوج سے منسلک ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے وابستہ ہوئے اور وفات تک اسی ادارے سے وابستہ رہے۔ جعفر طاہر کے شعری مجموعے ہفت کشور، ہفت آسمان اور سلسبیل کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے۔ ہفت کشور پر انہیں 1962ء میں آدم جی ادبی انعام بھی ملا تھا۔ جعفر طاہر کا انتقال 25 مئی 1977ء کو راولپنڈی میں ہوا وہ جھنگ میں اپنے آبائی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
.
نیل بہتا رہا گاتا رہا برسوں ایسے
دامن ِ دشت پہ اہرام ابھرتے ہی رہے
…
وقت کی گود میں تابوت ابھرتے ہی رہے
لوگ مل مل کے بچھڑتے رہے کیسے کیسے
…
اور اب نیل نے اک د ور نرالا دیکھا
ہر در و بام کے ماتھے پہ اجالا دیکھا
…
اب نہ اوہام نہ وہ کفر پرستی کی رسوم
ظلمتِ ظلم و ظنوں کو تہہ و بالا دیکھا
…
بے نوا اب جو اٹھے اوجِ عجب تک پہنچے
تشنہ لب چشم تا باب طرب تک پہنچے
…
وہ کہ تھے قدرت اظہار سے محروم و تہی
مسند فلسفہ و شعر و ادب تک پہنچے
….
یہ خداوند تعالیٰ کا پیا م پر نور
جس کا فرمان کہ اللہ کی ہے ساری زمیں
جس کا ارشاد کہ ہر جا ہو نظام ِ جمہور
….
بٹائیں ہم بھی کبھی درد آبشاروں کا
کسی پہاڑ کے دامن میں رو لیا جائے
میرے رفیق بہت جلد آنے والے ہیں
میرے لہو سے صلیبوں کو دھو لیا جائے
….
میں نے جو تیرے تصور میں تراشے تھے کبھی
لے گئے وہ بھی میرے گھر سے پجاری پتھر
سینہ سنگ سے دریا نہیں بہتے دیکھے
کون کہتا ہے کہ ہیں درد سے عاری پتھر
ناز ہر بت کے اٹھا پائے نہ جعفر طاہر
چوم کر رکھ دیئے ہم نے یہ بھاری پتھر
…..
کوئے حرم سے نکلے ہے کوئے بتاں کی راہ
ہائے کہاں پہ آکے ملی ہے کہاں کی راہ


