حزیں قادری کا یومِ وفات March 19, 1991 19 مارچ 19…

March 19, 1991
19 مارچ 1991ء کو پاکستان کی فلمی صنعت کے مشہور کہانی و نغمہ نگار حزیں قادری لاہور میں وفات پاگئے۔ حزیں قادری کا اصل نام بشیر احمد تھا اور وہ 1926ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ حزیں قادری نے فلم دو آنسو کی نغمہ نگاری سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ یہ فلم اردو میں بنی تھی تاہم اس فلم کے بعد انہوں نے صرف اور صرف پنجابی فلموں کی کہانیاں اور نغمات لکھے۔ ان کی مشہور فلموں میں ہیر، پاٹے خان، چھومنتر، ڈاچی، ملنگی اور پنھے خاں کے نام سرفہرست ہیں۔ حزیں قادری کے مشہور نغمات میں فلم ہیر کا نغمہ اسین جان کے میٹ لئی رکھ وے، فلم چھومنتر کا، برے نصیب مرے، فلم ڈاچی کا ٹانگے والا خیر منگدا سرفہرست ہیں۔ حزیں قادری نے 1973ء میں فلم ضدی اور 1978ء میں فلم علم دین شہید پر بہترین کہانی کے نگار ایوارڈ حاصل کئے تھے۔ 1989ء میں ان کی 25 سالہ فلمی خدمات پر بھی انہیں خصوصی نگار ایوارڈ عطا کیا گیا تھا۔ حزیں قادری لاہور میں ڈی ون، گلبرگ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
حزیں قادری کی یادگار فلموں میں ہیر، پاٹے خان، پتن، ماہی منڈا، نوراں، چھومنتر، موج میلہ، پھنے خان، جماں جنج نال، چن مکھناں، باؤ جی، سجن پیارا، جنٹرمین، ماں پتر،سجناں دور دیا، خان چاچا، سلطان، مستانہ ماہی شامل ہیں۔
’’چن مکھناں‘‘، ’’سجن پیارا اورجند جان‘‘ جیسی فلموں کے کہانی نویس اور گیت نگار حزیں قادری ہی تھےوہ 1970ء میں ریلیز ہونے والی پنجابی فلم ’’سجناں دور دیا‘‘ کے پروڈیوسر بھی تھے۔
ان کے چند مشہور ترین پنجابی نغمات یہ ہیں
رناں والیاں دے پکن پراٹھے (ماہی منڈا) –برے نصیب میرے (چھومنتر) –ٹانگے والا خیر منگدا (ڈاچی) –چن میرے مکھناں (چن مکھناں) –سیونی میرا ماہی میرے بھاگ جگاون آ گیا (مستانہ ماہی) –ماہی وے سانوں بھل نہ جاویں (ملنگی) –سجناں نیں بوہے اگے چک تان لئی(بھریا میلہ) اپنابناکے، دل لاکے چھڈ جائیں ناں (جنٹرمین) – دلدار صدقے، لکھہ وار صدقے (سلطان)دنیا مطلب دی او یار (دنیا مطلب دی) پنچھی تے پردیسی(نوراں)ٹانگے والا خیر منگدا(ڈاچی)تھوڑا تھوڑا چن ویکھیا(ہتھ جوڑی)جیو ڈھولا(پھنے خاں)چھلا میرا کن گھڑیا(جی دار)ماہی وے سانوں بھل نہ جائیں(ملنگی) تیرا کی جانا بیگانے پت دا(بھریا میلہ)چک تان لئی(بھریا میلہ) کلا بندہ ہووے بھاویں رکھہ نی(چاچاجی) سیو نی میرے دل دا جانی( دل دا جانی) بھل گئی میں بھل گئی(چن مکھناں) تیرے جہے پت جمن ماواں( چن مکھناں ) پاک پتن تے آن کھلوتی( عشق نہ پچھے ذات)وگدی ندی دا پانی(عشق نہ پچھے ذات) چھلا دے جا نشانی(چن ویر) کہندے نیں نیناں( جماں جنج نال) ماہی وے بنگلہ پوا دے(جگ بیتی)۔
حزیں قادری کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہیں دوبار نگار ایوارڈ سے نوازا گیا اور یہ اعزاز انہیں فلم ’’ضدی‘‘ (1973ء) اور’’غازی علم دین




