منتخب غزلیں

فلابیر کی طرح سمرسٹ ماہم نے بھی اپنی ماں سے شدید م…

فلابیر کی طرح سمرسٹ ماہم نے بھی اپنی ماں سے شدید محبت کی۔۔ یہ شاید ان دونوں کا اثر تھا۔۔ اس کی ماں جب چھٹے بچے کی پیدائش کے دوران فوت ہو گئی تو سمرسٹ ماہم نے اس کا بہت اثر لیا۔۔ اس کی تصویر ہر وقت جیب میں رکھتا تھا۔۔ 91 سال تک اس نے یہ محبت نبھائی جب فوت ہوا تو ماں کی تصویر اس کی جیب میں تھی۔۔

وہ کہتا ہے:

محبت کرنے کے علاؤہ عورتوں کو کچھ نہیں آتا۔۔ محبت ایک بیماری ہے۔۔ عورت کیونکہ بنیادی طور پر کمزور ہے وہ جب محبت کرتی ہے تو روح پر قبضہ کرنا چاہتی ہے تاکہ طاقتور بن سکے۔۔!!

اس نے اپنی اس عادت کو لوگوں سے چھپانے کی بہت کوشش کی لیکن چھپا نہ سکا۔۔ اس کے ان نظریات نے اس کی گھریلو زندگی برباد کر دی۔۔ اس نے شادی کی لیکن 1927 میں اس کی بیوی ( syrie ) نے اسے طلاق دے دی۔۔ سمرسٹ ماہم نے کسی دوست کی بیٹی لیکر اس کی پرورش کی اور دوبارہ شادی نہ کی۔۔

سمرسٹ ماہم نے اس وقت لکھنا شروع کیا جب تھامس مان، ورجینیا وولف، ولیم فاکنر اور جیمز جوائس جیسے ناول نگار مقبولیت حاصل کر رہے تھے اور نقادوں سے داد وصول کر رہے تھے۔۔ ان کے مقابلے میں اسے کم درجے کا مصنف کہا جاتا ہے۔۔ سمرسٹ ماہم خود کہا کرتا تھا:

میں دوسرے درجے کے لکھنے والوں میں صف اول کا لکھنے والا ہوں۔۔!!

سمرسٹ ماہم نے اپنے بارے میں کھل کر باتیں کی ہیں اور اپنی کسی برائی اور کمزوری پر پردہ نہیں ڈالا۔۔ وہ کہتا تھا:

میں نے ہمیشہ اپنے بارے میں یہی اندازہ کیا کہ میں 25 فی صد ابنارمل ہوں اور 75 فی صد نارمل حالانکہ معاملہ الٹ تھا اپنے بارے میں یہ اندازہ میری بہت بڑی غلطی تھی۔۔!!

سمرسٹ ماہم بہت دولت مند لیکن بہت کنجوس تھا، پیسہ پیسہ گنتا تھا۔۔ حالانکہ رفاعی کاموں پر دل کھول کر خرچ کرتا تھا۔۔ اس کنگ سکول کی اس نے بہت مالی مدد کی جس میں اس نے اپنا بچپن بہت تکلیف دہ حالات میں گزارا تھا۔۔ زندگی کے آخری ایام اس نے بڑی شان سے اپنے پیرس کے Willa میں گزارے جس میں اس کے پاس چھ نوکر اور چار مالی تھے۔۔

اپنی وصیت میں بیٹی ( lizza ) کے لیے ایک پیسہ نہ چھوڑا۔۔ کیونکہ وہ ہمیشہ اپنی ماں کی طرف داری کرتی تھی۔۔ آخری عمر میں اُسے اپنے کئے پر بہت افسوس تھا۔۔

” میری زندگی کا نچوڑ یہ ہے کہ میں نے غلطی کے بعد غلطی کی ہے۔۔ میں نے بے حد فضول زندگی گزاری اور زندگی برباد کر لی۔۔ جو کچھ کیا بُرے انداز میں کیا۔۔”

اس نے کئی بار سوچا کہ وہ اپنے بھائی ہیری کی طرح خودکشی کر لے مگر اس نے ایسا نہیں کیا Wila میں اس کا
بھتیجا Robin روبن اس کے ساتھ رہتا تھا ایک دن اُس سے کہا:

اگر تم دعا پر یقین رکھتے ہو تو دعا مانگو کہ کوئی صبح بھی آئے کہ میں سو کر نہ اُٹھوں اور ابدی نیند سو جاؤں۔۔!!
16 دسمبر 1965 ء کو اس کی دعا قبول ہو گئی اور وہ ہمیشہ کی نیند سو گیا۔۔ بقول فرانسیسی دانشور ول ڈیورنٹ؛

اُس نے ایک غمزدہ زندگی گزاری، وہ اُس ادبی بلندی پر نہ پہنچا جس کا اُس نے خواب دیکھا تھا اگر چہ اُس نے اپنے ناولوں، ڈراموں اور کہانیوں سے ساری دنیا کو متاثر کیا۔۔ وہ محنتی تھا اور جینیئس تھا۔۔ بس مزاح اور برداشت کی کمی تھی۔۔ دراصل قدرت نے اُسے اس کی برائیوں کی پیشگی سزا دے دی تھی اور اسے موقع نہیں دیا کہ وہ سمجھ سکے کہ محبت اور معاف کر دینا تلخی اور انتقام سے کہیں بہتر ہے۔۔
••
کتاب: علم و دانش کے معمار
مصنف: احمد عقیل روبی

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/