منتخب غزلیں
مُنیؔر نیازی خَلِشِ ہِجرِ دائمی نہ گئی تیرے رُخ …

مُنیؔر نیازی
خَلِشِ ہِجرِ دائمی نہ گئی
تیرے رُخ سے ــ یہ بے رُخی نہ گئی
پُوچھتے ہیں ـ کہ ، کیا ہُوا دِل کو
حُسن والوں کی ــسادگی نہ گئی
سَر سے سَودا گیا محبّت کا
دِل سے پر ــ اُس کی بے کلی نہ گئی
اور سب کی حِکایتیں کہہ دِیں
بات اپنی کبھی ــ کہی نہ گئی
ہم بھی گھر سے مُنِؔیر، تب نکلے!
بات اپنوں کی جب سَہی نہ گئی

