منتخب غزلیں
ظُلم رہے اور امن بھی ہو کیا مُمکِن ہے تُم ہی کہو …


ظُلم رہے اور امن بھی ہو
کیا مُمکِن ہے تُم ہی کہو
ہنستی گاتی روشن وادی
تاریکی میں ڈُوب گئی
بیتے دِن کی نعش پہ اے دل
مَیں روتی ہُوں تُو بھی رو
ظُلم رہے اور امن بھی ہو
ہر دھڑکن پر خوف کے پہرے
ہر آنسُو پر پابندی
یہ جیون بھی کیا جیون ہے
آگ لگے اِس جیون کو
ظُلم رہے اور امن بھی ہو
اپنے ہونٹ سیئے ہیں تُم نے
میری زباں کو مت روکو
تُم کو اگر توفیق نہیں تو
مُجھ کو ہی سچ کہنے دو
ظُلم رہے اور امن بھی ہو۔۔۔!
کلام حبیب جالبؔ
آواز مادام نور جہاں

