نظم نگار اور معروف شاعر” جعفرؔ ساہنی صاحب “ کا یوم…

March 11, 2019
*جعفرؔ ساہنی* *٥ جنوری ١٩٤١ء* کو *لکھمنیاں گاؤں، (بیگوسرائے)* *بہار* میں پیداہوئے۔البتہ انہوں نے زندگی کے زیادہ تر ایام شہرنشاط کلکتہ میں گزارے۔زمانۂ طالب علمی سے لے کر دورِمعلمی تک توموصوف کلکتہ کے ہی ہوکر رہے۔ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعدبھی انہوں نے یہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ ادھر کافی دنوں سے معذوری بڑھ گئی تھی۔ یہاں تک کہ جمعہ کی نماز کے لیے بھی مسجد جانا مشکل ہو گیا تھا۔ پسماندگان میں تین بیٹوں کے علاوہ دوبیٹیاں بھی ہیں۔ اہلیہ پچھلے سال انتقال کرچکی تھیں۔ ان کے دوشعری مجموعے ’ہواکے شامیانے میں‘ اور ’شاید‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس کے ذریعہ بالترتیب 2010 اور 2012 میں شائع ہوئے۔
*جعفر ساہنی* کا انتقال *١١ مارچ ٢٠١٨ء* کو *کولکاتہ* میں ہوا۔
جعفر ساہنی کے یومِ وفات پر منتخب اشعار
پوشیدہ تھا جو سب پہ عیاں کیوں نہیں ہوا
حق میں ہمارے نیک گماں کیوں نہیں ہوا
—
*خاموش نگاہوں سے وہ یلغار کا ہونا*
*ملتا ہے نفی میں کسی اقرار کا ہونا*
—
دل میں خیالِ عشق تھا مہمان کی طرح
ارماں سجا تھا میرؔ کے دیوان کی طرح
—
بے نیازی وقت سے مجھ میں نہ قائم ہو سکی
میں سدا حاضر رہا تازہ خبر کے آس پاس
—
*زوالِ عمر کے پردے میں ہے حجاب کہاں*
*وفورِ شوق سے لبریز اب گلاب کہاں*
—
خوشیوں کو بدن پر جو لپیٹے ہوئے کل تھا
ہے آج شرابور وہی درد نہاں میں
—
طشت میں دھوپ کے ہر سمت زمیں ہے روشن
جگمگاتا ہے مکاں اور مکیں ہے روشن
—
شر کی باتوں میں تمازت کا نشاں ہو کہ نہ ہو
آگ لگتی ہے تو سینے میں دھواں ہو کہ نہ ہو
—
*حسن کی شوخِ نظر مانگے ہے قیمت اپنی*
*جھکتی آنکھوں کے دریچے میں حیا تھی کل تک*
—
خاموش فضا تھامے رہا وہ مرے حق میں
میں لے کے چلا آیا دعا اور کسی کی
—
حیات پا نہ سکے گی حسین سی خواہش
سماعتوں میں ہے جب تک صدا اداسی کی
—
ہر طرف موجِ بلا کی سی روانی دیکھی
اشک کی گود میں مجبور کہانی دیکھی
—
*دستک کبھی طوفان کی پرجوش تھی جعفرؔ*
*بکھری ہوئی خوشبو کی ردا دیکھ کے چپ ہے*
—
*حمد و ثنا دعا سے سنوارا گیا تھا شہر*
*جعفرؔ مگر وہ جائے اماں کیوں نہیں ہوا*
*انتخاب : آئی ۔ اے انصاری*


