کلیمؔ عثمانی کے یومِ ولادت پر منتخب اشعار جب کسی…

جب کسی نے قد و گیسو کا فسانہ چھیڑا
بات بڑھ کے رسن و دار تک آ پہنچی ہے
—–
ہے زیب گلو کب سے مرے دار کا پھندا
مجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتے
—–
*ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہت*
*پھر بھی رہتا ہے ہمیں احساسِ تنہائی بہت*
—–
شعر ہمارے سن کر اکثر دل والے رو دیتے ہیں
ہم بھی لئے پھرتے ہیں دل میں درد کسی شہنائی کا
—–
*جب وہ ہنستے ہوئے آتے ہیں خیالوں میں کلیمؔ*
*شامِ غم صبحِ مسرّت میں بدل جاتی ہے*
—–
*بے وفاؤں سے وفا کر کے گزاری ہے حیات*
*میں برستا رہا ویرانوں میں بادل کی طرح*
—–
یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے تم ہو نغمہ خواں اس کے
—–
*میں تو جھونکا تھا اسیرِ دام کیا ہوتا کلیمؔ*
*اس نے زلفوں کی مجھے زنجیر پہنائی بہت*
—–
اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں
سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں ہم ایک ہیں


