منتخب غزلیں

سنی ہے روشنی کے قتل کی جب سے خبر میں نے سرور انبال…

سنی ہے روشنی کے قتل کی جب سے خبر میں نے
سرور انبالوی
سنی ہے روشنی کے قتل کی جب سے خبر میں نے
چراغوں کی طرف دیکھا نہیں ہے لوٹ کر میں نے

فراز دار سے اپنوں کے چہرے خود ہی پہچانے
فقیہ شہر کو جانا نہیں ہے معتبر میں نے

بھلا سورج کی طرف کون دیکھے کس میں ہمت ہے
ترے چہرے پہ ڈالی ہی نہیں اب تک نظر میں نے

یقیناً آندھیوں نے آ لیا کونجوں کی ڈاروں کو
کہ خوں آلودہ دیکھے ہیں فضا میں بال و پر میں نے

تمہارے بعد میں نے پھر کسی کو بھی نہیں دیکھا
نہیں ہونے دیا آلودہ دامان نظر میں نے

ہزاروں آرزوئیں رہ گئیں گرد سفر ہو کر
سجا رکھی ہے پلکوں پہ وہی گرد سفر میں نے

دم رخصت مری پلکوں پہ دو قطرے تھے اشکوں کے
کیا ہے زندگانی کے سفر کو مختصر میں نے

میں اپنے گھر میں خود اپنوں سے بازی ہار بیٹھا ہوں
ابھی سیکھا نہیں اپنوں میں رہنے کا ہنر میں نے

سرور انبالویؔ اپنے ہی دل میں اس کو پایا ہے
جسے اک عمر تک آواز دی ہے در بدر میں نے
….
نام محمد یامین اور سرور تخلص ہے۔۱۵؍جنوری۱۹۲۷ء کو انبالہ میں پیدا ہوئے۔ ایم اے تک تعلیم حاصل کی۔ تقسیم ہند کے بعدپاکستان آگئے۔ ملٹری اکاؤنٹس، راول پنڈی میں ڈپٹی اسسٹنٹ کنٹرولر کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’شہروفا‘‘، ’’خون کے آنسو‘‘، ’’شمع انجمن‘‘، ’’ایوان غزل‘‘(شعرا کا تذکرہ) ، ’’نذر قائد‘‘۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:198
وفات 21 فروری 2019

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/