افسانے

آج کل کچھ مَردوں میں ایک نئی سوچ اُبھر کر سامنے آ رہی ہے جو یہ کہتی ہے کہ شوہر پ…

آج کل کچھ مَردوں میں ایک نئی سوچ اُبھر کر سامنے آ رہی ہے جو یہ کہتی ہے کہ شوہر پر صرف بیوی کی بنیادی ضروریات پوری کرنا لازم ہے، جبکہ عیش و آرام (لگژری) کے لیے عورت خود کمائے یہاں تک بات پھر بھی سمجھ میں آتی ہے، کیونکہ آج ہ عورت کام کرنا چاہتی ہے اور کر بھی رہی ہے، مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ دولت اور لگژری کی ہوس میں کچھ مَرد اپنی بہن، بیوی اور بیٹی سے مکمل طور پر ذمہ داری اٹھا لیتے ہیں۔سیدھے لفظوں میں یہ وہ بےغیرت مَرد ہیں جو شرم و حیا سے دور ہو چکے ہیں۔ان کا رویہ یہ بنتا جا رہا ہے کہ “جیسے مرضی کماؤ، بس کماؤ”
چاہے ناچ کر، بےحجاب ویڈیوز بنا کر، یا کسی بھی غیر مناسب طریقے سے۔حلال اور حرام کی حدیں مٹا دی جاتی ہیں۔

اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسے مَرد امیر گھرانوں کی بیٹیاں لانا چاہتے ہیں تاکہ بیوی کے ماں باپ ساری زندگی اپنی بیٹی کو مالی طور پر سہارا دیتے رہیں۔

ہونا یہ چاہیے کہ بیٹے کو بچپن ہی سے قابل بنایا جائے، اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے تعلیم کے ساتھ ساتھ اسے ہنر (اسکلز) بھی سکھائے جائیں، اور اسی دوران حلال کمائی کی عادت بھی ڈالی جائے، تاکہ وہ زندگی اور شادی کی ذمہ داریاں عزت اور غیرت کے ساتھ اٹھا سکے

کچھ شوہر حضرات بیوی کو نان نفقہ دینے میں اس طرح ناپ تول کرتے ہیں جیسے زیادہ دے دیا تو گناہ ہو جائے گا۔ حالانکہ اگر اللہ نے کشادگی عطا کی ہے تو گھر میں بھی اس کا اثر نظر آنا چاہیے۔ ہاں، فضول خرچی سے بچنا ضروری ہے، بیوی اور بچوں پر خرچ کرنے والے کے رزق میں اللہ برکت عطا فرماتا ہے۔ اس لیے نہ کنجوسی کریں اور نہ بخل سے کام لیں۔


Source

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/