آج کل کچھ مَردوں میں ایک نئی سوچ اُبھر کر سامنے آ رہی ہے جو یہ کہتی ہے کہ شوہر پ…

چاہے ناچ کر، بےحجاب ویڈیوز بنا کر، یا کسی بھی غیر مناسب طریقے سے۔حلال اور حرام کی حدیں مٹا دی جاتی ہیں۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسے مَرد امیر گھرانوں کی بیٹیاں لانا چاہتے ہیں تاکہ بیوی کے ماں باپ ساری زندگی اپنی بیٹی کو مالی طور پر سہارا دیتے رہیں۔
ہونا یہ چاہیے کہ بیٹے کو بچپن ہی سے قابل بنایا جائے، اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے تعلیم کے ساتھ ساتھ اسے ہنر (اسکلز) بھی سکھائے جائیں، اور اسی دوران حلال کمائی کی عادت بھی ڈالی جائے، تاکہ وہ زندگی اور شادی کی ذمہ داریاں عزت اور غیرت کے ساتھ اٹھا سکے
کچھ شوہر حضرات بیوی کو نان نفقہ دینے میں اس طرح ناپ تول کرتے ہیں جیسے زیادہ دے دیا تو گناہ ہو جائے گا۔ حالانکہ اگر اللہ نے کشادگی عطا کی ہے تو گھر میں بھی اس کا اثر نظر آنا چاہیے۔ ہاں، فضول خرچی سے بچنا ضروری ہے، بیوی اور بچوں پر خرچ کرنے والے کے رزق میں اللہ برکت عطا فرماتا ہے۔ اس لیے نہ کنجوسی کریں اور نہ بخل سے کام لیں۔
Source


