منتخب غزلیں
کوئی طوق ہے نہ بیڑی کوئی دام ہے نہ دا…

کوئی طوق ہے نہ بیڑی کوئی دام ہے نہ دانہ
کوئی ہو سمجھنے والا تو بہت نہیں فسانہ
کبھی مسکرا کے رونا کبھی رو کے مسکرانہ
یہ عبادتیں مرصَّع یہ سجود مجرمانہ
مجھے ڈر ہے بن نہ جائے مرے کفر کا بہانا
مرے زخم بھر نہ جائیں مجھے چین آ نہ جائے
یہ کبھی کبھی توجہ ہے ستم کا شاخسانہ
یہ سمجھ کے اس نے بخشی کبھی دولتِ سکوں بھی
کہیں راس آ نہ جائے مجھے گردشِ زمانہ
وہ کبھی جہاں پہ عامرؔ مجھے چھوڑ کر گئے تھے
ہے رکی ہوئی وہیں تک ابھی گردشِ زمانہ
مولانا عامرؔ عثمانی
از:-یہ قدم قدم بَلائیں ص۳۲
انتخاب
سفیدپوش


