منتخب غزلیں
رات بھی نیند بھی کہانی بھی ہائے کیا چیز ہ…

رات بھی نیند بھی کہانی بھی
ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی
ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی
ایک پیغامِ زندگانی بھی
عاشقی مرگِ ناگہانی بھی
دل کو اپنے بھی غم تھے دنیا میں
کچھ بلائیں تھیں آسمانی بھی
خلق کیا کیا مجھے نہیں کہتی
کچھ سنوں میں، تری زبانی بھی
دل کو آدابِ بندگی بھی نہ آئے
کر گئے لوگ حکمرانی بھی
اپنی معصومیوں کے پردے میں
ہو گئی وہ نظر سیانی بھی
دن کو سورج مُکھی ہے وہ نو گُل
رات کو وہ ہے رات رانی بھی
پاس رہنا کسی کا رات کی رات
میہمانی بھی میزبانی بھی
زندگی عین دیدِ یارِ فراقؔ
زندگی ہجر کی کہانی بھی
فراقؔ گورکھپوری
المرسل: فیصل خورشید


