ہائے جمال احسانی تُو نے یہ کیا کِیا جمال آخِر اس …
تُو نے یہ کیا کِیا جمال آخِر
اس میں تھا کون سا کمال آخِر
تُجھ کو یہ کیسے نیند آئی ہے
یہ تو ہم سب سے بے وفائی ہے
آج ہے شاعری اُداس بہت
حُسنِ فن نے شکست کھائی ہے
دِل نے دھڑکن کا ساتھ چھوڑا ہے
شمع نے روشنی گنوائی ہے
کِس سے اُس شخص کا گلہ کیجیے
نہیں آتا سمجھ میں کیا کیجیے
جاں فزا صُبح و شام کی یادو
تُم نہ دِل کو مِرے سہارا دو
اے مِرے داغ ہائے دِل مُجھ کو
اپنی سوزِش سے اور ایذا دو
آج کا دِن نہیں شراب کا دِن
آج تو مُجھ کو زہر پِلوا دو
یہ جنازہ جمالِ فن کا ہے
اہلِ فن اِسکو بڑھ کے کاندھا دو
اِس کو کرنا ہے اِک غزل تحریر
قبر میں روشنی تو پہنچا دو
کیسا نقصان ہو گیا اپنا
شہر سُنسان ہو گیا اپنا
زِندگی کیا ہے صِرف ایک ٹھٹھول
اِس کو میزانِ فکر میں مت تول
موت ہے اور ہوس خرید کی ہے
اور کچھ بھی نہیں یہاں انمول
ہے اگر تو کُچھ مت سوچ
ہے اگر بولنا تو کُچھ مت بول
لمحہ لمحہ پڑھا کرے اِنسان
نوحۂ کُلُّ مَن عَلَیھَا فَانِِ۔۔۔!
جونؔ ایلیا

